0

مظفرآباد غیر مجازافرادکے ذریعے پاسپورٹ فیس کی وصولی قومی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار

ڈیلی پرل ویو. مظفرآباد . غیر مجازافرادکے ذریعے پاسپورٹ فیس کی وصولی قومی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار۔ شناختی کارڈ کی کاپیوں کا غیر محفوظ استعمال، سیکیورٹی ادارے تشویش میں مبتلا،مظفرآباد میں پاسپورٹ فیس ایزی پیسہ کے ذریعے وصولی،: ڈیٹا لیک کا خدشہ۔سہولت یا سازش؟ پاسپورٹ فیس کا غیر شفاف نظام قومی سلامتی کے لیے خطرناک، ایف آئی اے کی کارروائی کے باوجود غیر قانونی سہولت کار دوبارہ سرگرم۔شناختی چوری اور منی لانڈرنگ کا خطرہ، ذمہ دار کون ہوگا؟نادرا اور پاسپورٹ ریکارڈ کا تحفظ قومی سلامتی کا تقاضا ہے۔متعلقہ حکام صورتحال سے بے خبرتونہیں؟ شہریوں کا ڈیٹا بروکرز کے ہاتھوں میں جانا ریاستی سلامتی کے لیے نیا چیلنج،عوامی دستاویزات کا غلط استعمال ریاستی سیکیورٹی کو متاثر کر سکتا ہے،ماہرین کا انتباہ۔تفصیلات کیمطابق پاسپورٹ آفس مظفرآباد کے قریب غیر مجاز دکانوں کے ذریعے پاسپورٹ فیس کی وصولی اور شناختی دستاویزات کے استعمال پر سنگین سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ شہریوں کے مطابق اصل طریقہ کار یہ ہے کہ پاسپورٹ فیس سرکاری بینک (سٹیٹ بینک یا نیشنل بینک) میں جمع کروائی جائے، تاہم پاسپورٹ آفس کے ساتھ موجود ایک دکان پر ایزی پیسہ کے ذریعے فیس وصول کی جاتی ہے اور شناختی کارڈ کی کاپیاں بھی وہیں پر بنائی جاتی ہیں۔ذرائع کے مطابق ماضی میں شہریوں کی شکایت پر ایف آئی اے نے کارروائی کرتے ہوئے اس غیر قانونی سہولت فراہم کرنے والے شخص کو حراست میں لیا تھا، تاہم کچھ ہی عرصہ بعد اس نے قریب ہی دوسری جگہ نئی دکان کھول کر دوبارہ وہی کام شروع کر دیا۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ ایزی پیسہ کے ذریعے جمع کی جانے والی رقم بالآخر سٹیٹ بینک تک پہنچ جاتی ہے، مگر غیر مجاز افراد کے ذریعے پاسپورٹ فیس جمع کرانا نہ صرف قانون کے خلاف ہے بلکہ اس عمل سے شناختی کارڈ اور دیگر ذاتی دستاویزات کے غلط استعمال کا خدشہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ماہرین کے مطابق اس صورتحال میں شناختی چوری، جعلی سمز کا اجراء، بینک اکاؤنٹس کھلوانے، مالی دھوکہ دہی، اور دہشت گردی یا منی لانڈرنگ جیسے سنگین جرائم کے امکانات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس حوالے سے شہریوں نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے غیر قانونی مراکز کے خلاف مستقل بنیادوں پر کریک ڈاؤن کیا جائے تاکہ عوامی ڈیٹا کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ادھر عوامی حلقوں نے زور دیا ہے کہ اگر واقعی ایزی پیسہ یا جیز کیش جیسے ذرائع سے پاسپورٹ فیس جمع کرانے کی سہولت دینی ہے تو یہ کام صرف حکومت پاکستان اور ڈائریکٹوریٹ جنرل امیگریشن اینڈ پاسپورٹ کی براہِ راست نگرانی میں ہونا چاہیے۔ بصورت دیگر یہ ”سہولت“ عوامی مشکلات اور قومی سلامتی کے لیے خطرہ ثابت ہو سکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں