0

دارالحکومت میں حقوقِ مہاجرین کانفرنس کا انعقاد، 9 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ پیش

(ڈیلی پرل ویو )مظفرآباد: دارالحکومت میں حقوقِ مہاجرین کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں خواتین، بچوں، بزرگوں اور نوجوانوں سمیت ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ کانفرنس کا آغاز تلاوتِ قرآن پاک اور پاکستان و کشمیر کے قومی ترانوں سے ہوا۔ شرکاء نے پاکستان اور کشمیر کے پرچموں کے سائے تلے “اسلام، آزادی اور پاکستان” اور مہاجرین کے حقوق کے حق میں فلک شگاف نعرے لگائے۔

کانفرنس میں 9 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کیا گیا اور حکومت کو 10 ستمبر کی ڈیڈلائن دیتے ہوئے مطالبات پورے نہ ہونے کی صورت میں سڑکوں پر احتجاج کا اعلان کیا گیا۔ مقررین نے کہا کہ 6 فیصد کوٹہ کا خاتمہ مہاجرین کے مستقبل کو اندھیروں میں دھکیلنے کے مترادف ہے، اگر مطالبات منظور نہ ہوئے تو سپریم کورٹ سے بھی رجوع کیا جائے گا۔

مقررین میں عزیر احمد غزالی، محمد یوسف بٹ، ریاض احمد جرال، گوہر احمد کشمیری، محمود اختر قریشی ایڈووکیٹ، راجہ محمد عارف خان، محمد لطیف لون، چوہدری محمد مشتاق، ارشاد احمد بٹ، اقبال یاسین اعوان، چوہدری محمد الطاف، محمد اقبال میر، عثمان علی ہاشم، تنظیر اقبال، امتیاز احمد بٹ، چوہدری عبد الواحد، منظور اقبال بٹ، بلال احمد فاروقی، محمد یونس میر، راجہ سجید خان، چوہدری عبدالحمید، سید حامد جمیل، اشتیاق لیاقت اعوان، فیصل کشمیری، محمد افضل نائیک، اکسیر اعوان، احمد جان بٹ، راجہ فضاکت حسین سمیت دیگر رہنماؤں اور ورکنگ کمیٹی کے ممبران شامل تھے۔

مقررین نے اپنے خطاب میں کہا کہ حکومتِ آزاد کشمیر مہاجرین کے مسائل حل کرنے میں مسلسل کوتاہی کر رہی ہے۔ 310 ارب روپے کے بجٹ کے باوجود مہاجرین بنیادی ضروریات سے محروم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپنے ہی ملک میں مہاجرین کو ڈومیسائل نہ دینا کھلی ناانصافی ہے جبکہ اسمبلی میں نمائندگی نہ ہونا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

9 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ:

ماہانہ گزارہ الاؤنس میں فی کس کم از کم 1500 روپے اضافہ۔

مہاجرین 1989 کی آبادکاری کے لیے قانون سازی اور یکساں پالیسی۔

ایک جامع مالی پیکج جس میں زمین کی خریداری، گھر بنانے اور روزگار شروع کرنے کے لیے امداد شامل ہو۔

سرکاری ملازمتوں میں 6 فیصد کوٹہ کی بحالی اور مکمل عملدرآمد۔

مہاجرین کشمیر 1989 کو ڈومیسائل کا اجرا۔

آزاد کشمیر اسمبلی میں مہاجرین جموں وادی اور جموں کے لیے الگ الگ نشستوں کی تخصیص۔

شادی شدہ جوڑوں کو الگ خاندان شمار کرتے ہوئے “ب مہاجر کارڈ” کا اجرا۔

مہاجر بستیوں میں آباد خاندانوں کو حتمی مالکانہ حقوق دینا۔

تحریک آزادی کشمیر کے تناظر میں بیس کیمپ حکومت کی واضح اور عملی حکمت عملی۔

مقررین نے کہا کہ مہاجرین کے یہ مطالبات نہ صرف ان کی بقاء اور فلاح کے ضامن ہیں بلکہ تحریک آزادی کشمیر کی تقویت کے لیے بھی ناگزیر ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر حکومت نے سنجیدہ اقدامات نہ کیے تو احتجاجی تحریک کو سڑکوں پر منتقل کیا جائے گا جس کی ذمہ داری بیس کیمپ حکومت پر ہوگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں