0

برساتی نالوں اور قدرتی ندیوں کے کنارے غیر قانونی تعمیرات حکومت اور اداروں کی ناک کے نیچے ہو رہی ہیں محمد طاہر کھوکھر

اسلام آباد (ڈیلی پرل ویو)پاسبان وطن پاکستان کے مرکزی صدر اور سابق وزیر سیاحت و ٹرانسپورٹ محمد طاہر کھوکھر نے حالیہ شدید بارشوں کے نتیجے میں شہری زندگی کی تباہی پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ یہ صورتحال قدرتی نہیں بلکہ حکومتی و بلدیاتی ناکامیوں کا منہ بولتا ثبوت ہے انہوں نے کہا کہ زیادہ بارش کا مطلب زیادہ پانی ہونا ایک فطری عمل ہے لیکن جب نالوں کی صفائی نہ ہو کچرا وقت پر نہ اٹھایا جائے اور سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوں سیفٹی وال نہ ہو تو اس کا نتیجہ صرف بدترین نکاسی آب کی صورت میں ہی نہیں نکلتا بلکہ انسانی جانوں اور املاک کا ضیاع بھی ہوتا ہے شہروں میں بارش کے بعد سڑکیں ندی نالوں کا منظر پیش کرتی ہیں گلی محلوں میں پانی کھڑا ہو جاتا ہے اور شہری گھروں میں محصور ہو کر رہ جاتے ہیں یہ سب کسی قدرتی آفت کا نہیں بلکہ حکومتی نااہلی اور ناقص پلاننگ کا نتیجہ ہے۔طاہر کھوکھر نے کہا کہ اور حکومت بلدیاتی ادارے اس وقت کہاں سوئے ہوتے ہیں جب برساتی نالوں، قدرتی ندیوں کے کنارے اور ان کے بیچ راستوں پر غیر قانونی طور پر گھر، پلازے اور ہوٹل تعمیر کیے جا رہے ہوتے ہیں یہ تعمیرات کسی چھپے ہوئے مقام پر نہیں ہو رہیں بلکہ حکومت اور اداروں کی ناک کے نیچے ہو رہی ہیں افسوسناک بات یہ ہے کہ یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے اور کوئی ادارہ روکنے والا نہیں یہ غفلت نہیں مجرمانہ چشم پوشی ہے جس کا خمیازہ عوام کو اپنی جان و مال کی صورت میں بھگتنا پڑ رہا ہے۔ اگر وقت پر ان غیر قانونی تعمیرات کو روکا جاتانالوں کی صفائی مستقل بنیادوں پر ہوتی اور کچرے کے موثر انتظامات کیے جاتے تو آج یہ حالت نہ ہوتی یہ بدترین صورتحال دراصل برسوں کی غفلت کا نتیجہ ہے جس کا خمیازہ آج عام شہری بھگت رہا ہے۔پاسبان وطن کے صدنے کہاکہ آج کا شہری بنیادی سہولتوں سے محروم ہے طاہر کھوکھر نے حکومت اور متعلقہ اداروں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر اب بھی ہوش کے ناخن نہ لیے گئے تو آنے والے وقت میں صورتحال اس سے بھی زیادہ تباہ کن ہو سکتی ہے صرف ہنگامی اقدامات نہیں بلکہ دیرپا اور عملی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے نالوں کی مستقل صفائی کچرا اٹھانے کا مؤثر نظام، سڑکوں کی مرمت اور غیر قانونی تعمیرات کے خلاف بلاتفریق کارروائی ہونی چاہیے قومی سطح پر جامع پالیسی بنائی جائے موسمیاتی تبدیلیوں کے تناظر میں شہری انفراسٹرکچر کو ازسرنو ترتیب دیا جائے بلدیاتی اداروں کو فعال بااختیار اور جوابدہ بنایا جائے نالوں کی صفائی کو سالانہ نہیں ماہانہ عمل بنایا جائے شہریوں کے تحفظ کے لیے فوری طور پر ایمرجنسی پلان تشکیل دیا جائے غیر قانونی تعمیرات کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی اسی غفلت کا خمیازہ قوم سیلابوں، بارشوں اور شہری نظام کی تباہی کی صورت میں بھگت چکی ہے مگر افسوس حکومت اور ادارے ہر بار چند دنوں کے شور کے بعد خاموش ہو جاتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں