ڈیلی پرل ویو.تھوراڑ (نامہ نگار) — صدر پاکستان مسلم لیگ(ن) آزاد جموں و کشمیر شاہ غلام قادر نے کہا ہے کہ غیر جماعتی نظام اور موجودہ حکومت کی بیڈ گورننس نے آزاد کشمیر کے مسائل میں اضافہ کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان چاہتا ہے کہ آزاد کشمیر میں ایسے حالات پیدا کیے جائیں جن سے پاکستان پر دباؤ ڈالا جا سکے، جبکہ اندرونی سطح پر بھی کچھ عناصر آزاد کشمیر کے موجودہ بااختیار نظام کے خاتمے کے خواہاں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ خطہ حساس ہے اور انتشار کا متحمل نہیں ہو سکتا، اس لیے عوام کو سیاسی بالغ نظری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ریاستی نظام اور اختیارات کے تحفظ کے لیے جدوجہد کرنا ہو گی۔ شاہ غلام قادر نے کہا: “ہم سہولت کار نہیں، مزاحمت کار ہیں جو پاک فوج کے ساتھ مل کر ہندوستانی عزائم کے سامنے سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔”
اپوزیشن جماعتوں اور تاجر تنظیموں پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسمبلی فلور پر مسلم لیگ(ن) نے سب سے پہلے مہنگے آٹے اور بجلی کے بلوں میں فیول ایڈجسٹمنٹ کے خلاف آواز اٹھائی تھی، جس پر وزیر اعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے فوری فنڈز فراہم کیے۔ لیکن عوام آج بھی مہنگائی، ملاوٹ شدہ اشیائے خوردونوش اور تجاوزات کے مسائل کا شکار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مطالبات جائز ہو سکتے ہیں لیکن یہ بھی واضح کیا جانا چاہیے کہ وسائل کہاں سے آئیں گے۔ ایکشن کمیٹی کے موجودہ مطالبات تو “قارون کے خزانے” سے بھی پورے نہیں ہو سکتے۔