0

قیامت خیز زلزلہ 2005 کی 20ویں برسی — آزاد کشمیر میں تعمیرِ نو کے 77 فیصد منصوبے مکمل، 44 ارب روپے مزید درکار

ڈیلی پرل ویو.مظفرآباد (خصوصی رپورٹر) — سیکرٹری سیرا آزاد کشمیر خالد محمود مرزا نے قیامت خیز زلزلہ کی 20 ویں برسی کے موقع پر میڈیا نمائندگان کو تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ آج سے انیس سال قبل 8 اکتوبر 2005ء کو آنے والے ریکٹر اسکیل 7.6 شدت کے زلزلے نے آزاد کشمیر کی 56 فیصد آبادی کو متاثر کیا۔
اس سانحہ میں 46 ہزار سے زائد افراد شہید، 33 ہزار زخمی جبکہ تین لاکھ سے زائد نجی املاک تباہ ہوئیں۔ زلزلہ نے 53 فیصد خطہ میں صحت، تعلیم، آب رسانی، نکاسی اور مواصلات کے نظام کو زمین بوس کر دیا۔

سیکرٹری سیرا کے مطابق اُس وقت مجموعی نقصان کا تخمینہ 125 ارب روپے لگایا گیا — جس میں 61 ارب روپے نجی شعبے اور 64 ارب روپے سرکاری انفراسٹرکچر کے نقصان پر مشتمل تھا۔

ریسکیو و بحالی: آپریشن لائف لائن کی کامیابی

انہوں نے کہا کہ اس انسانی تاریخ کے المناک سانحہ کے بعد شروع ہونے والے ریسکیو، ریلیف اور بحالی کے آپریشن — “آپریشن لائف لائن” — کی کامیابی کا سہرا حکومت پاکستان، افواج پاکستان، عوام، برادر اسلامی ممالک اور بین الاقوامی اداروں کے سر ہے۔
زلزلہ زدہ عوام نے اپنی زندگیوں کی ازسرِنو شروعات کے لیے جس ہمت و استقامت کا مظاہرہ کیا وہ قابلِ ستائش ہے، جبکہ ایراء، سیرا اور آزاد حکومت کے اداروں نے بے مثال لگن سے بحالی و تعمیر نو کا عمل مکمل کیا۔

ناقص تعمیرات اور تعلیم یافتہ نسل کا نقصان

خالد محمود مرزا نے کہا کہ زلزلہ میں سب سے زیادہ جانی نقصان ناقص طرزِ تعمیر کے باعث ہوا۔ تعلیمی اداروں میں زلزلہ مزاحم ڈیزائن کی عدم موجودگی کے باعث اعلیٰ تعلیم یافتہ نسل کا بڑا حصہ لقمۂ اجل بنا۔
2005ء سے قبل آزاد کشمیر میں پیشہ ورانہ انجینئرنگ خدمات نہ ہونے کے برابر تھیں اور غیر تربیت یافتہ مزدوروں کے ذریعے عمارتیں تعمیر کی جاتی تھیں۔

ایرا اور سیرا کا قیام — “Build Back Better” ویژن

زلزلے کے بعد حکومت پاکستان نے بین الاقوامی برادری کے تعاون سے ادارۂ “ایراء” قائم کیا، جس نے تعمیر نو، پالیسی سازی، عملدرآمد اور مالیاتی نظم و نسق کے لیے ایک مؤثر ڈھانچہ تشکیل دیا۔
“Build Back Better” کے ویژن کے تحت زلزلہ مزاحم بلڈنگ کوڈز کے مطابق 7608 منصوبے ڈیزائن کیے گئے، جن میں سے 5878 منصوبے مکمل ہو چکے ہیں۔

مختلف شعبہ جات کی کارکردگی

سیکرٹری سیرا نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ:

تعلیم: 2718 میں سے 1606 منصوبے مکمل، 515 جاری، 597 فنڈز نہ ہونے سے رکے ہوئے۔

صحت: 160 میں سے 119 مکمل، 21 جاری، 20 زیر التوا۔

ماحولیات و جنگلات: 128 میں سے 84 مکمل، 43 جاری۔

گورننس (سرکاری عمارات): 223 میں سے 161 مکمل، 60 جاری۔

زراعت و امور حیوانات: 1426 میں سے 1038 مکمل، 251 جاری۔

پاور، سماجی تحفظ، ٹیلی کمیونیکیشن، اربن ڈویلپمنٹ کے تقریباً تمام منصوبے مکمل ہو چکے۔

مواصلات و نقل و حمل: 138 میں سے 136 مکمل، ایک جاری۔

آب رسانی و نکاسی آب (WATSAN): 2795 میں سے 2714 مکمل۔

مجموعی پیشرفت

کل 7608 منصوبوں میں سے:

5878 منصوبے (77%) مکمل

919 منصوبے (12%) جاری

811 منصوبے (11%) فنڈز کی کمی کے باعث زیر التوا

فنڈز کی کمی — 44 ارب روپے درکار

سیکرٹری سیرا کے مطابق تعمیر نو پروگرام کا مجموعی حجم 225 ارب روپے ہے، جن میں سے 181 ارب روپے خرچ ہو چکے ہیں، جبکہ 44 ارب روپے مزید درکار ہیں۔
ان میں سے 20.113 ارب روپے جاری منصوبوں اور 24.013 ارب روپے نئے منصوبوں کے لیے درکار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اپریل 2021ء کے بعد فنڈز کی فراہمی میں تعطل پیدا ہوا، خاص طور پر 476 طالبات کے اسکولز کی تعمیر رک گئی ہے۔
ان میں سے 65 اسکولز 80 فیصد تک مکمل ہو چکے ہیں، جن کی تکمیل کے لیے وفاقی پلاننگ کمیشن سے 1 ارب روپے کی فراہمی کی تحریک کی گئی ہے، جس کے رواں مالی سال میں ملنے کی امید ہے۔

اقوام متحدہ کی جانب سے ساساکاوا ایوارڈ

زلزلہ مزاحم تعمیراتی اقدامات کے اعتراف میں ایراء کو 2011ء میں اقوام متحدہ کا “ساساکاوا ایوارڈ” دیا گیا، جو پاکستان کے لیے ایک بڑا اعزاز ہے۔

آخر میں سیکرٹری سیرا نے کہا کہ 2005ء کے زلزلے سے حاصل ہونے والے تجربات مستقبل میں قدرتی آفات کے مؤثر انتظام میں رہنمائی فراہم کریں گے، اور آزاد کشمیر کی تعمیرِ نو انسانی عزم و حوصلے کی روشن مثال ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں