مظفرآباد(ڈیلی پرل ویو) آزاد جموں و کشمیر میں کروڑوں روپے کے واجب الادا ٹیکسز کی عدم ادائیگی اور مسلسل ناقص موبائل و انٹرنیٹ سروسز فراہم کرنے والی سیلولر کمپنیوں کے خلاف عوامی سطح پر شدید ردعمل کااظہارکیاجارہا ہے، جبکہ ریاستی اداروں کی خاموشی اور نرم رویے نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے حالیہ اجلاس میں کمپنیوں کی جانب سے ٹیکسز کی عدم ادائیگی کو انتہائی سنجیدہ مالی بے ضابطگی قرار دیتے ہوئے سخت برہمی اور گہری تشویش کا اظہار کیا گیا، تاہم عملی کارروائی نہ ہونے پر شہریوں نے حکومتی رٹ اور عملداری پر کھلے سوالات اٹھا دیے ہیں۔ذرائع کے مطابق سیلولر کمپنیاں آزاد کشمیر سے سالانہ اربوں روپے کا ریونیو حاصل کر رہی ہیں مگر ریاستی خزانے کو واجب الادا کروڑوں روپے کے ٹیکسز ادا کرنے سے مسلسل گریز کیا جا رہا ہے۔ عوامی و سماجی حلقوں نے اس طرزِ عمل کو ریاستی قوانین کی صریح خلاف ورزی اور کھلی بغاوت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر عام شہری بل یا ٹیکس ادا نہ کرے تو فوری کارروائی ہوتی ہے، مگر بڑی کمپنیوں کو مکمل چھوٹ دینا دوہرے معیار کی واضح مثال ہے۔ریاستی دارالحکومت مظفرآباد سمیت آزاد کشمیر کے بیشتر علاقوں میں موبائل سگنلز کی عدم دستیابی، کال ڈراپ، انٹرنیٹ کی انتہائی سست رفتار اور بار بار سروس بندش معمول بن چکی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ کئی علاقوں میں گھنٹوں نہیں بلکہ دنوں تک نیٹ ورک غائب رہتا ہے، جس کے باعث طلبہ کی آن لائن تعلیم، سرکاری دفاتر کا نظام، بینکنگ سروسز اور ای کامرس سرگرمیاں بری طرح متاثر ہو رہی ہیں۔ عوام کا کہنا ہے کہ مہنگے پیکجز لینے کے باوجود انہیں بنیادی سہولت تک میسر نہیں۔کاروباری برادری نے شدید احتجاج کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ موبی لنک جاز، یوفون اور پی ٹی سی ایل کی مبینہ اجارہ داری نے صارفین کو بے بس بنا دیا ہے۔ تاجروں کے مطابق انٹرنیٹ بندش اور سست روی کے باعث روزانہ لاکھوں روپے کے کاروباری نقصانات ہو رہے ہیں جبکہ آن لائن لین دین متاثر ہونے سے معاشی سرگرمیاں جمود کا شکار ہو رہی ہیں۔ تاجر تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اصلاحی اقدامات نہ کیے گئے تو ریاست گیر احتجاجی تحریک شروع کی جائے گی۔پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اراکین نے اجلاس میں واضح کیا کہ سیلولر کمپنیوں کی ناقص کارکردگی اور ٹیکس چوری ناقابل برداشت ہو چکی ہے اور حکومت کو فوری طور پر جرمانے، لائسنس معطلی یا دیگر قانونی کارروائی جیسے سخت اقدامات کرنا ہوں گے۔ تاہم عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ حکومتی بے بسی یا عدم دلچسپی نے کمپنیوں کو مزید طاقتور بنا دیا ہے۔سیاسی، سماجی اور عوامی تنظیموں نے شدید ردعمل دیتے ہوئے جاز اور یوفون کے اجتماعی بائیکاٹ کی کال دے دی ہے اور کہا ہے کہ جب تک کمپنیاں ٹیکسز ادا کرنے اور معیاری سروس فراہم کرنے کی پابند نہیں ہوتیں، عوام کو بطور صارف اپنا احتجاج ریکارڈ کروانا ہوگا۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت فوری طور پر سیلولر کمپنیوں کا“قبلہ درست”کرے اور ریاست میں مواصلاتی نظام کو بہتر بنانے کے لیے ہنگامی اقدامات اٹھائے۔عوامی حلقوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر ٹیکسز کی عدم ادائیگی اور ناقص غیرمعیاری سروسز کا سلسلہ جاری رہا تو یہ معاملہ صرف سہولیات کی کمی نہیں بلکہ ریاستی خودمختاری، معاشی حقوق اور عوامی استحصال کا مسئلہ بن جائے گا، جس کے خلاف شدید عوامی ردعمل ناگزیر ہو چکا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اب صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے اور عوام مزید استحصال برداشت کرنے کو تیار نہیں۔
3
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل