4

وفاقی وزیر امورکشمیر و گلگت بلتستان انجینئر امیر مقام سے وزیر خوراک، ٹیوٹا وکے ڈی اے آزادکشمیر جاوید اقبال بڈھانوی کی ملاقات

وفاقی وزیر امورکشمیر و گلگت بلتستان انجینئر امیر مقام سے وزیر خوراک، ٹیوٹا وکے ڈی اے آزادکشمیر جاوید اقبال بڈھانوی کی ملاقات۔ملاقات میں آزاد کشمیر کے عوام کو درپیش سیاسی و معاشی مسائل، مہاجرین جموں و کشمیر کی فلاح و بہبود، ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت اور وفاق اور آزاد کشمیر حکومت کے مابین تعاون کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پروفاقی وزیر انجینئر امیر مقام نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیر پاکستان کی قومی پالیسی کا بنیادی جزو ہے اور تحریک آزادی کشمیر حکومت پاکستان کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ پاکستان کشمیری عوام کے حق خودارادیت کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا اور عالمی سطح پر ان کی آواز کو مؤثر انداز میں اٹھاتا رہے گا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت آزاد کشمیر کے ساتھ مکمل ہم آہنگی اور قریبی رابطہ برقرار رکھا جائے گا تاکہ ریاستی عوام کے مسائل کے حل کے لیے مربوط اور مؤثر اقدامات کیے جا سکیں۔ وفاقی حکومت ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل بنیادی ڈھانچے کی بہتری اور عوامی سہولیات کی فراہمی کے لیے وسائل فراہم کرنے میں اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان مہاجرین کے مسائل سے بخوبی آگاہ ہے اور ان کی مالی معاونت،تعلیم، صحت اور روزگار کے مواقع کی فراہمی کے لیے خصوصی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔مہاجرین کو درپیش مشکلات کا دیرپا حل نکالنا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔انہوں نے ٹرپل ایم منصوبے کو ایک اہم سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ آزاد کشمیر اور پاکستان کے درمیان رابطوں کو مزید مضبوط کرے گا اس منصوبے سے نہ صرف سفری سہولیات میں بہتری آئے گی بلکہ تجارت، سیاحت اور سرمایہ کاری کے مواقع بھی بڑھیں گے جس سے خطے کی مجموعی معیشت کو فائدہ پہنچے گا اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے دروازے کھلیں گے۔اس موقع پروزیر خوراک، ٹیوٹا وکے ڈی اے آزادکشمیر جاوید اقبال بڈھانوی نے صدرِ پاکستان آصف علی زرداری، وزیراعظم پاکستان شہباز شریف اور وفاقی وزیر امورِ کشمیر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ایکشن کمیٹی کے احتجاج کے دوران کشمیری عوام کے مسائل کے حل میں سنجیدگی اور دلچسپی کا مظاہرہ کیا گیا جس سے ریاستی عوام میں مثبت پیغام گیا وفاقی قیادت کی توجہ سے مسائل کے حل کی راہ ہموار ہوئی ہے اور عوامی اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔جاوید اقبال بڈھانوی نے کہا کہ آزاد حکومت ریاست کے عوام کے مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے اور وفاقی حکومت کے ساتھ مل کر ترقیاتی منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے کوشاں ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعظم آزاد کشمیر کی جانب سے مہاجرین1989 کے گزارہ الاؤنس میں 3,500 روپے سے بڑھا کر 6,000 روپے کرنے کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیا اور کہا کہ اس اقدام سے ہزاروں مستحق خاندانوں کو براہ راست ریلیف ملا ہے۔انہوں نے لائن آف کنٹرول پر بسنے والے عوام کے مسائل کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ سرحدی علاقوں میں رہنے والے شہری اکثر فائرنگ اور دیگر مشکلات کا سامنا کرتے ہیں اس لیے ان کے لیے خصوصی مالی پیکج، صحت و تعلیم کی سہولیات اور انفراسٹرکچر کی بہتری ناگزیر ہے۔انہوں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ سرحدی آبادیوں کی بحالی اور ترقی کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں تاکہ وہاں کے عوام کو محفوظ اور باوقار زندگی میسر آ سکے حکومت پاکستان اس اہم ایشو کو سنجیدگی سے اس پر غور کرے۔ملاقات کے اختتام پر دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل مہاجرین کی فلاح و بہبود، ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل اور ریاستی عوام کی خوشحالی کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی انہوں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ وفاق اور آزاد کشمیر حکومت کے درمیان روابط کو مزید مضبوط بنا کر عوامی مسائل کے حل کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ ریاست کے عوام کی توقعات پر پورا اترا جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں