ڈیلی پرل ویو،سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں سول سوسائٹی کے ارکان نے کہاہے کہ نریندر مودی کی حکومت نے علاقے کودنیا کی سب سے بڑی کھلی جیل میں تبدیل کر دیا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق سول سوسائٹی کے ارکان نے سرینگر میں ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ مودی کی زیرقیادت ہندوتواحکومت نے متنازعہ علاقے کو ایک فوجی چھاﺅنی میں تبدیل کر دیا ہے جہاں بنیادی آزادیوں کو منظم طریقے سے سلب کیا جارہاہے۔ انہوں نے کہا کہ 10 لاکھ سے زائد فوجیوں کی تعیناتی کے باعث یہ خطہ کرہ ارض کے سب سے زیادہ فوجی جماﺅ والے علاقوں میں سے ایک ہے جہاں شہری مسلسل نگرانی اور خوف میں رہتے ہیں۔کارکنوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ بھارت نے کشمیریوں کو زندہ رہنے کے حق سمیت تمام بنیادی حقوق سے محروم کر رکھا ہے جہاں قتل وغارت، تشدد اور بلاجواز گرفتاریاں روز کا معمول بن چکی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ بھارتی افواج کا علاقے میں قتل عام کا ایک طویل اور سنگین ریکارڈ ہے جس سے استثنیٰ اور جبر کا ماحول قائم کرنے میں مدد ملتی ہے۔سول سوسائٹی کے ارکان نے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جنوری 1989 سے فروری 2026 تک کم از کم 96ہزار489 کشمیری بھارتی گولیوں سے شہیدہو چکے ہیں جس سے دہائیوں سے جاری المناک تشدد کی عکاسی ہوتی ہے۔