0

مہاجر نوجوان: حوصلہ پست، اعصاب شل تحریر: راجہ محمد عارف خان

ڈیلی پرل ویو :
اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغِ زندگی
تو اگر میرا نہیں بنتا، نہ بن، اپنا تو بن

مہاجرین کی تاریخ قربانی، جدوجہد اور مزاحمت سے عبارت ہے۔ یہ تاریخ خون، ہجرت، محرومی اور مسلسل استقامت سے لکھی گئی ہے۔ مگر آج ایک تلخ اور ناقابلِ انکار حقیقت ہمارے سامنے کھڑی ہے: یہ تاریخ اپنے سب سے مضبوط ستون یعنی نوجوانوں—کی بے حسی اور لاتعلقی کے باعث شدید خطرے میں ہے۔ یہ بے حسی اب محض غفلت نہیں رہی بلکہ ایک ایسی خاموش تباہی میں بدل چکی ہے جو پوری تحریک کو اندر سے کھوکھلا کر رہی ہے۔
آج مہاجر نوجوان تحریک سے کٹے ہوئے، مقصد سے خالی اور حالات کے محض تماشائی بنے نظر آتے ہیں۔ جن مسائل نے ان کے مستقبل، تعلیم، روزگار اور شناخت کو براہِ راست داؤ پر لگا رکھا ہے، ان پر ان کی خاموشی کئی سنگین سوالات کو جنم دیتی ہے۔ مہاجر قوم کی حالتِ زار کسی سے پوشیدہ نہیں، مگر نوجوانوں کا رویہ اس اجتماعی سانحے میں ایک بے حس ناظر سے زیادہ کچھ دکھائی نہیں دیتا۔
اس زوال کی ایک بڑی وجہ نظریاتی کمزوری اور گروہ بندی ہے۔ آج نوجوان نظریے کے بجائے شخصیات کے پیچھے کھڑے ہیں، اصول کے بجائے ذاتی وابستگیوں میں الجھے ہوئے ہیں۔ نتیجتاً وہ چند شاطر اور موقع پرست عناصر کے ہاتھوں میں محض ایک آلہ بن چکے ہیں، جو نوجوانوں کے جذبات کو استعمال کر کے اپنے ذاتی مفادات کی سیاست چمکاتے ہیں، جبکہ قوم کا مجموعی نقصان بڑھتا چلا جاتا ہے۔
سب سے زیادہ افسوسناک منظر اس وقت سامنے آتا ہے جب کوٹہ سسٹم کے خاتمے جیسے بنیادی اور زندگی و موت کے مسئلے پر نوجوانوں کے اعصاب شل ہو جاتے ہیں۔ چند وقتی نعرے، چند جذباتی بیانات، سوشل میڈیا کی حد تک شور، اور پھر مکمل خاموشی۔ یہ خاموشی کمزوری نہیں، بلکہ ایک اجتماعی جرم ہے—ایسا جرم جس کی قیمت آنے والی نسلوں کو ادا کرنا پڑے گی۔
آج وقت کا تقاضا ہے کہ نوجوان خود سے سنجیدہ اور بے رحم سوال کریں:
کیا وہ واقعی اس تحریک کا حصہ ہیں یا صرف اس کے تماشائی؟
کیا وہ تاریخ بنانا چاہتے ہیں یا تاریخ کے حاشیے پر کھڑے رہنا ہی ان کی تقدیر ہے؟
اب مزید انتشار، مزید خاموشی اور مزید غلط قیادت برداشت کرنے کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔ وقت کی سب سے توانا اور سچی آواز اتحاد ہے۔ ذاتی مفادات، گروہی تعصبات اور نام نہاد قیادت کی اندھی پیروی ترک کیے بغیر کوئی حقیقی تبدیلی ممکن نہیں۔ اگر نوجوان بیدار ہو جائیں، منظم ہو جائیں اور خود قیادت سنبھال لیں تو دنیا کی کوئی طاقت انہیں ان کے جائز حق سے محروم نہیں رکھ سکتی۔
یہ فیصلہ آج کرنا ہوگا، کیونکہ کل بہت دیر ہو چکی ہوگی۔
یا نوجوان اٹھیں گے، منظم ہوں گے اور قیادت کریں گے،
یا پھر تاریخ انہیں اس قوم کے طور پر یاد رکھے گی
جس کے نوجوان سب کچھ ہوتے دیکھتے رہے اور خاموش رہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں