ڈیلی پرل ویو،پنجاب میں پولیس اصلاحات کے اعلان ابھی تازہ ہی تھے کہ ایک حالیہ واقعے نے ان دعوؤں کی حقیقت ایک بار پھر بے نقاب کر دی۔ چند روز قبل ایک شہری اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کی شکایت لے کر تھانے پہنچا۔ اس نے نہ کسی بڑے نام کا حوالہ دیا، نہ سفارش کا سہارا لیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ اسے بٹھایا گیا، مختلف بہانوں سے ٹالا گیا، اور آخرکار یہ کہہ کر رخصت کر دیا گیا کہ“اوپر سے اجازت آئے گی تو دیکھیں گے”۔ نہ ایف آئی آر درج ہوئی، نہ یہ پوچھا گیا کہ اس تاخیر سے شہری کو کتنا نقصان پہنچا۔یہ کوئی واحد واقعہ نہیں، بلکہ ہمارے تھانوں کا معمول ہے۔ یہی وہ تلخ حقیقت ہے جو پولیس اصلاحات کے تمام دعوؤں کو کڑی آزمائش میں ڈال دیتی ہے۔ پینک بٹن، باڈی کیمرے، مانیٹرنگ رومز اور شائستہ لہجے کی ہدایات اس وقت بے معنی ہو جاتی ہیں جب ایک شہری کو اندر داخل ہوتے ہی یہ احساس ہو جائے کہ یہاں انصاف اس کی دسترس میں نہیں۔ اگر کیمرے کے سامنے بھی شہری کو نظرانداز کیا جا سکتا ہے تو پھر مسئلہ اصلاحات کی کمی نہیں، نیت کی سمت ہے۔پاکستان میں پولیس کا بنیادی مسئلہ بدکلامی یا رویہ نہیں، بلکہ جوابدہی کا فقدان ہے۔ پولیس اہلکار یہ جانتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ کیا ہوگا؟ تبادلہ، معطلی یا ایک خاموش انکوائری۔ جب سزا خفیہ ہو، اور اثر وقتی، تو نظام میں خوف نہیں آتا۔ کیمرے صرف مناظر محفوظ کرتے ہیں، اگر ان کے نتائج عوام تک نہ پہنچیں تو وہ انصاف پیدا نہیں کرتے۔حالیہ کیس میں بھی یہی ہوا۔ شہری کو بتایا گیا کہ درخواست“اوپر بھیج دی گئی”ہے، مگر یہ نہیں بتایا گیا کہ کب فیصلہ ہوگا، کون ذمہ دار ہوگا، اور اگر اس تاخیر سے نقصان بڑھ گیا تو اس کا ازالہ کون کرے گا۔ یہ وہ سوالات ہیں جن سے ریاست برسوں سے نظریں چراتی آئی ہے، کیونکہ ان کا جواب دینا پڑے تو ماننا پڑے گا کہ ریاست خود ناکام ہوئی ہے۔یہی طرزِ فکر ہمیں ماضی میں سی سی ڈی کے تجربے میں بھی نظر آیا۔ ریاست نے طاقت دکھائی، مقابلے ہوئے، میڈیا پر کامیابیوں کے دعوے کیے گئے۔ مگر متاثرہ شہری؟ اس کے لیے ریاست کے پاس سوائے ایک جملے کے کچھ نہ تھا:“ملزم مارا گیا”یا“گرفتار ہو گیا”۔ حالانکہ ایک لٹے ہوئے شخص کے لیے یہ خبر انصاف نہیں ہوتی۔ اس کے لیے انصاف اس دن ہوتا ہے جب اس کا نقصان پورا ہو۔اب پولیس اصلاحات کے اس نئے پیکج کے ساتھ بھی یہی خدشہ جڑا ہوا ہے۔ اگر چند ماہ بعد تھانوں میں کیمرے تو لگ جائیں مگر فیصلے وہی پرانے رہیں، اگر شکایات درج تو ہوں مگر انجام تک نہ پہنچیں، اگر زیادتی ثابت ہو جائے مگر سزا نظر نہ آئے، تو یہ اصلاحات بھی نمائشی بن کر رہ جائیں گی۔نئے آئی جی پولیس کے لیے یہ وقت محض انتظامی ذمہ داری نبھانے کا نہیں، بلکہ اعتماد بحال کرنے کا ہے۔ پولیس کے اندر بھی بہت سے افسران اور اہلکار موجود ہیں جو واقعی نظام کی بہتری چاہتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا انہیں وہ پشت پناہی ملے گی جو طاقتور کے دباؤ کے سامنے کھڑے ہونے کے لیے ضروری ہوتی ہے؟ اگر احتساب چند کمزور کڑیوں تک محدود رہا اور اصل مسائل کو ہاتھ نہ لگایا گیا تو اصلاحات کا فائدہ بھی محدود ہی رہے گا۔سب سے بنیادی سوال اب بھی وہی ہے جس سے ریاست مسلسل گریز کرتی آئی ہے:کیا حکومت متاثرہ شہری کے نقصان کے ازالے کا کوئی واضح نظام متعارف کروائے گی؟کیا پولیس کی ناکامی یا غفلت کی قیمت ریاست ادا کرے گی؟ دنیا کے مہذب معاشروں میں اگر پولیس شہری کو تحفظ دینے میں ناکام ہو تو ریاست خود آگے آتی ہے۔ ہمارے ہاں ریاست پیچھے ہٹ جاتی ہے اور شہری کو ایک اور درخواست تھما دی جاتی ہے۔ یہ انصاف نہیں، یہ ذمہ داری سے فرار ہے۔یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ موجودہ حکومت میں سرگرمی نظر آتی ہے، مگر سرگرمی انصاف کا متبادل نہیں۔ تاریخ یہ نہیں دیکھتی کہ کتنے اعلانات ہوئے، وہ یہ دیکھتی ہے کہ عام آدمی کو کیا ملا۔ اگر کچھ ماہ بعد بھی ایک شہری تھانے میں داخل ہوتے ہوئے خوف محسوس کرے، اگر اس کا نقصان ویسے ہی بے حساب رہے، تو یہ اصلاحات بھی ماضی کے وعدوں کی فہرست میں شامل ہو جائیں گی۔ریاست کو اب دو ٹوک فیصلہ کرنا ہوگا۔ یا تو وہ طاقتور دکھنے کی سیاست چھوڑ دے، یا پھر یہ مان لے کہ وہ منصف بننے کے لیے تیار نہیں۔ پولیس اصلاحات کی کامیابی کسی پریس کانفرنس یا رپورٹ میں نہیں، بلکہ اس دن ناپی جائے گی جب ایک متاثرہ شہری یہ کہہ سکے کہ ریاست نے صرف مجرم کو نہیں پکڑا، میرا نقصان بھی پورا کیا۔ اس دن سے پہلے ہر ڈیڈ لائن، ہر کیمرہ اور ہر اعلان محض دکھاوا ہے—اور نیت اور نتیجے کے درمیان فاصلہ ویسا ہی قائم رہے گا جیسا آج ہے۔
1
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل