ڈیلی پرل ویو،لاہور کو ہاتھ لگا کے آنا تو بہت مشکل ہوتا ہے تاہم بعض افراد ایسے ہوتے ہیں کہ ٹالے نہیں جا سکتے۔ معروف شاعرہ،بلاگر، سفرنامہ نگار اور نقاد بیناگوئندی کا اصرار بھی ایسا ہی تھا کہ ان کی تنظیم گھروندہ کے زیر اہتمام ان کی تصنیف ”ہیروشیما کے آنسو“ کی تقریب رونمائی لاہور میں منعقد ہو رہی ہے جس میں شرکت ضروری ہے۔ سو اظہر سلیم مجوکہ اور عثمان ستار کو تیار کیا کہ اس مرحلے سے گزر آتے ہیں انہوں نے شرط یہ رکھی کہ شرکت کے بعد الٹے پاؤں واپسی ہوگی، میں نے کہا ظالمو رات کی نیند تو خراب نہ کرو اگلے دن صبح سویرے نکل آئیں گے۔ وہ مان گئے۔ اس طرح بھاگم بھاگ جب ہم ڈی ایچ اے 6میں گھروندہ پہنچے تو تقریب کا آغاز ہو چکا تھا اور محفل پورے جوبن پر تھی۔ ہمارے پہنچنے پر تھوڑا ہلہ گلا ضرور ہوا کہ ملتان والے پہنچ گئے ہیں تاہم تقریب کا تسلسل جاری رہا۔ اسٹیج پر ڈاکٹر نجیب جمال، صاحب صدر غلام حسین ساجد، کراچی سے آئی شاعرہ ناصرہ زبیری اور بیناگوئندی براجمان تھیں۔ نظامت کے فرائض شاہد رضا سرانجام دے رہے تھے۔ دو تین مقرر اظہارِ خیال کرکے جا چکے تھے، یعنی پنڈال میں بیٹھے تھے، باقی اپنی باری کے انتظار میں تھے۔مجھے بھی اسٹیج پر بیٹھے مہمانوں میں بٹھایا گیا۔ میرے سامنے سلیم طاہر، فرحت زاہد، نیلم احمد بشیر، شعیب،شہزاد منیر، حامد محمود، اظہر سلیم مجوکہ، عثمان ستار، بی اے ناصر، ظہیر بدر، سید عامر محمود اور دیگر احباب بیٹھے تھے۔ یوں بیناگوئندی نے لاہور کے چیدہ چیدہ اہل قلم کو اکٹھا کر لیا تھا۔ بیناگوئندی کا یہ سفرنامہ بڑی مقبولیت حاصل کررہا ہے، کراچی، اسلام آباد اور ملتان میں اس کی بھرپور تعارفی تقاریب ہو چکی ہیں جبکہ لاہور میں یہ پہلی تقریب تھی اور سنا ہے ایک اور تقریب بھی ہوئی ہے۔ یہ سفرنامہ جاپان کا ہے، مگر یہ روائتی سفرنامہ نہیں۔ اس میں ہیروشیما میں ایٹم بم گرائے جانے کی نہ صرف کیفیات کا اثر ہے بلکہ اس کے جاپانیوں کی سماجی زندگی پر کیا اثرات ہوئے اس کا احوال بھی لکھا گیا ہے۔ جاپانی جو ایٹم بم گرائے جانے سے پہلے ایک سخت گیر قوم تھے۔ اس کے بعد کیسے ایک نرم خو اور صلح جو قوم بنے، اس کا تذکرہ اس سفرنامے کی اصل روح ہے۔ بیناگوئندی نے یہ سفر 22سال پہلے کیا تھا۔ اس زمانے میں انہوں نے اس سفر کے حوالے سے قومی ڈائجسٹ میں قسطیں لکھیں جو بہت مقبول ہوئیں۔ اس کے بعد وہ امریکہ چلی گئیں اور یہ سلسلہ منقطع ہو گیا۔ اس کے بعد چند برس پہلے انہوں نے جب جاپان کا دوبارہ سفر کیا تو انہوں نے اس سفرنامہ کی تکمیل کا فیصلہ کیا۔ اس کا فائدہ یہ ہوا کہ ”ہیروشیما کے آنسو“ ایک ایسا سفرنامہ بن گیا جس میں تباہی کی وحشت ناک گھڑیوں کا بھی ذکر ہے او ران لمحات کا بھی جو جاپانیوں نے اس عظیم سانحہ سے نکل کر ایک نئی منزل کی طرف سفر کے دوران گزارے۔
ایک قوم کس طرح تباہ ہوتی اور پھر شان و تمکنت سے بستی ہے، اس کا احوال درحقیقت اس سفرنامے کا اصل موضوع ہے۔ انسانیت پر جب انسان ہی کا غصہ غضب ڈھاتا ہے تو ہیروشیما اور ناگاساکی جیسے واقعات جنم لیتے ہیں۔ اس تقریب میں شرکاء نے بار بار اس پہلو کی نشاندہی کی کہ ”ہیروشیما کے آنسو“ عام سفرناموں سے ہٹ کر لکھا گیا ایک منفرد سفرنامہ ہے جس کے پیچھے ایک سوچ اور فکری بازیافت شامل ہے۔ بیناگوئندی چونکہ زندگی کے مختلف پہلوؤں اور جہتوں پر نظر رکھتی ہیں اور انسانیت کا درد ان کے ذہن و فکر کی اساس ہے، اس لئے انہوں نے 35سال پہلے 22سال کی عمر میں جو سفر کیا تھا اس وقت سے لے کر پچاس سال کی عمر میں سفر تک وہ یہ کھوجتی رہیں کہ ایک ایسا ملک، ایک ایسا سماج جو تاریخ میں پہلی ایسی قوم بن جاتا ہے جو ایٹم بم کی تباہی سے دوچار ہوئی تو اس کی نفسیات، جسمانی ساخت، سماجی رویوں اور معاشرتی حالات پر کیا اثرات مرتب ہوئے۔ ہیروشیما اور ناگاساکی کو دو کردارجان کر بیناگوئندی نے جس طرح ایک کہانی بنی ہے، وہ میرے نزدیک دنیا کی ادبی تاریخ میں ایک شاہکار بن گئی ہے۔ کراچی کی شاعرہ اور نقاد ناصرہ زبیری نے کتاب پر بہت پرمغز گفتگو کی۔ انہوں نے کہا میں نے اس سفرنامے کو دوبار پڑھا ہے اور دونوں بار مجھے ایک عجیب قسم کی تخلیقی سرشاری کا احساس ہوا ہے۔ یہ اس قدر بھرپور سفرنامہ ہے کہ جاپان کی زندگی اور جاپانیوں کو سمجھنے کے لئے ایک بہت اہم دستاویز بن گیا ہے۔دنیا میں جاپانیوں جیسی کوئی اور قوم نہیں، کیونکہ کسی قوم نے ایٹم بم کی تباہی نہیں دیکھی، ایسی قو میں ہمت ہار جاتی ہیں مگر جاپانیوں نے ایک نئی جہت کے ساتھ خود کو پروان چڑھایا۔ اپنی عادتوں کو تبدیل کیا اور تباہ کن ٹیکنالوجی کے مقابلے میں امن او رترقی دینے والی ٹیکنالوجی کو ایجاد کرنے کا بیڑہ اٹھایا جس کے بعد وہ آگے بڑھتی گئی اور آج دنیا کے لئے ہیروشیما اور ناگاساکی ایک ڈڑاؤنا خواب ہو سکتے ہیں۔ جاپانیوں نے انہیں پھر سے امن، و استحکام اور ترقی کی آماجگاہ بنا دیا ہے۔
ڈاکٹر نجیب جمال ایک کہنہ مشق نقاداور محقق ہیں۔اردو ادب کے استاد اور دانشور، انہوں نے ہیروشیما کے آنسو پر گفتگو کی اور بہت خاص کی۔ انہوں نے بیناگوئندی کو ایک ایسی تخلیق کار قرار دیا جو تاریخ کی نبض پر ہاتھ رکھ کر لکھنا جانتی ہیں، انہوں نے شاعری اور نثر کے میدان میں اپنی تخلیقی مہارت سے انمٹ نقوش ثبت کئے ہیں۔ ہیروشیما کے آنسو میں ان کا تخلیقی تجسس عروج پر نظر آتا ہے۔ ایک ایسے معاشرے میں جا کر خوشی اور غمی کے گہرے فاصلوں میں مٹا ہوا ہے، انہوں نے اس بات کا کھوج لگانے کی کوشش کی ہے جو جاپانیوں کی زندگی کو بدلنے کا باعث بنی۔ یہ سفرنامہ نہ صرف دلچسپی کے اوصاف سے مزین ہے بلکہ اس نے تاریخ کے وہ اوراق بھی پلٹے ہیں جو شاید روایت کی مٹی میں دب جاتے ہیں۔ تقریب کے صدر پروفیسر غلام حسین ساجد نے شاندار گفتگو کی، انہوں نے بیناگوئندی کو تخلیقی جادوگرقرار دیا جو عام سے موضوع کو بھی بہت خاص بنا دیتی ہیں۔ان کا یہ سفرنامہ پاکستان میں لکھے گئے سفرناموں کی روایت میں ایک نئے طرز کی بنیاد ثابت ہوگا۔ بیناگوئندی نے ایک طویل اور دلچسپ گفتگو کی جس کا احوال پھر کبھی سہی۔
1