ڈیلی پرل ویو،دنیا کی سب سے بڑی سوشل میڈیا کمپنیوں میں سے ایک، Meta Platforms، جس کے تحت فیس بک اور انسٹاگرام جیسے پلیٹ فارمز آتے ہیں، پر امریکہ میں ایک اہم قانونی کیس دائر کیا گیا۔ یہ مقدمہ نوجوانوں کی ذہنی صحت اور سوشل میڈیا کے استعمال کے حوالے سے کمپنی کی ذمہ داریوں پر روشنی ڈال رہا ہے اور اس نے عالمی سطح پر صارفین، والدین اور تعلیمی ماہرین کی توجہ حاصل کر لی ہے۔ کیس کا مقصد یہ جانچنا ہے کہ کیا کمپنی کے پلیٹ فارمز نوجوانوں کے لیے نقصان دہ ہیں اور کیا کمپنی نے اپنی مصنوعات کو اس طرح ڈیزائن کیا کہ وہ نوجوان صارفین کو زیادہ وقت سوشل میڈیا پر گزارنے پر مجبور کریں۔
اس مقدمے میں مدعیہ، جو ایک کالج کی طالبہ کی والدہ ہیں، نے دعویٰ کیا کہ انسٹاگرام اور دیگر پلیٹ فارمز نے ان کے بچے کی ذہنی صحت پر منفی اثر ڈالا ہے۔ وہ بتاتی ہیں کہ کم عمری میں سوشل میڈیا کے استعمال نے ان کے بچے میں ذہنی دباؤ، بے چینی اور خود اعتمادی کی کمی پیدا کی۔ اس نے دعویٰ کیا کہ کمپنی نے ایسے فیچرز ڈیزائن کیے جو نوجوانوں کو مستقل طور پر مصروف رکھتے ہیں، جیسے ان فائنٹ اسکرول، لائکس کی گیمفیکیشن، اور بیوٹی فلٹرز، جو نوجوانوں میں خود پسندی اور جسمانی تصویر کے مسائل کو بڑھاتے ہیں۔
یہ کیس صرف ایک فرد کی شکایت نہیں بلکہ نوجوانوں کے ذہنی صحت، سوشل میڈیا کے اثرات اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اخلاقی ذمہ داریوں کے حوالے سے ایک وسیع بحث کو جنم دے رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا کا استعمال عام طور پر نقصان دہ نہیں ہوتا، مگر جب الگوردمز اور ڈیزائن نوجوانوں کو لمبے عرصے تک مشغول رکھنے پر مبنی ہوں تو اس کا اثر شدید ہو سکتا ہے۔
مارک زکربرگ، جو Meta کے CEO ہیں، نے عدالت میں اپنی گواہی میں کہا کہ کمپنی نے نوجوانوں کو نشہ آور بنانے یا نقصان پہنچانے کی نیت سے کوئی فیچر نہیں بنایا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ کمپنی کے اقدامات کا مقصد صارف کی دلچسپی اور پلیٹ فارم کی فعالیت کو بہتر بنانا تھا، اور نوجوانوں کی عمر کے بارے میں غلط معلومات فراہم کرنے کا مسئلہ اکثر صارفین کی جانب سے پیدا ہوتا ہے۔
عدالت میں یہ بھی سامنے آیا کہ کمپنی کے اندرونی ماہرین نے کئی بار بیوٹی فلٹرز کے اثرات پر تشویش ظاہر کی، مگر ان کے تجویز کردہ اقدامات مکمل طور پر نافذ نہیں ہوئے۔ اس بات سے ظاہر ہوتا ہے کہ کمپنی کے فیصلہ ساز کبھی کبھار معاشرتی اثرات کو ترجیح نہیں دیتے اور صارفین کے فائدے کے بجائے کاروباری دلچسپیوں کو فوقیت دیتے ہیں۔
ماہرین نے کہا ہے کہ یہ مقدمہ ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے ایک انتباہ ہے۔ جیسے سگریٹ یا اوپیئڈ کیسز میں صنعت کو قانونی اور اخلاقی ذمہ داریوں کا سامنا کرنا پڑا، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی نوجوانوں کے تحفظ اور ذہنی صحت کے حوالے سے جوابدہ ہونا پڑے گا۔
والدین اور بچوں کے تحفظ کے ادارے بھی اس کیس پر توجہ دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا کے الگوردمز اکثر نوجوانوں کے جذباتی اور نفسیاتی مسائل کو بڑھاتے ہیں، اور کمپنیوں کو اس بات کی ضمانت دینا ہوگی کہ ان کی مصنوعات بچوں کے لیے محفوظ ہیں۔
یہ مقدمہ اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ اگر عدالت کا فیصلہ مدعی کے حق میں جائے تو یہ فیصلہ دنیا کی دیگر بڑی سوشل میڈیا کمپنیوں پر بھی اثر ڈالے گا۔ TikTok، Snapchat اور YouTube جیسی کمپنیاں بھی مستقبل میں ایسے کیسز کے لیے قانونی اور اخلاقی معیار قائم کرنے پر مجبور ہوں گی.
میٹا کے لیے یہ کیس ایک نازک مرحلہ ہے کیونکہ کمپنی نے ہمیشہ اپنے پلیٹ فارمز کو محفوظ اور تعلیمی استعمال کے لیے پیش کیا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ نوجوان صارفین کے طرز استعمال، جذباتی اثرات اور الگوردم کے اثرات نے کمپنی کو عدالت میں جوابدہ بنا دیا ہے۔
سوشل میڈیا کے استعمال اور نوجوانوں کی ذہنی صحت کے حوالے سے ہونے والی تحقیق کے مطابق انسٹاگرام اور فیس بک نوجوانوں میں بے چینی، خود اعتمادی کی کمی اور جسمانی تصویر کے مسائل کو بڑھا سکتے ہیں۔ اس کا خاص طور پر اثر لڑکیوں پر زیادہ دیکھا گیا ہے، کیونکہ وہ زیادہ تر بیوٹی فلٹرز اور تصویری معیار کے دباؤ کا شکار ہوتی ہیں۔
یہ مقدمہ صرف ایک کیس کی حد تک محدود نہیں بلکہ اس نے عالمی سطح پر سوشل میڈیا کے اخلاقی اور قانونی پہلوؤں پر روشنی ڈالی ہے۔ یہ معاملہ کمپنیوں کی شفافیت، صارفین کی حفاظت اور ٹیکنالوجی کے اثرات پر ایک بحث کو ہوا دے رہا ہے۔
عدالتی کارروائی کے دوران Meta کے وکیلوں نے کہا کہ کمپنی نے عمر کی تصدیق کے لیے اقدامات کیے ہیں، مگر صارفین اکثر غلط معلومات دیتے ہیں، اور یہ مسئلہ صرف کمپنی کی ذمہ داری نہیں بلکہ والدین اور معاشرتی ماحول کی بھی ذمہ داری ہے۔
مدعیہ کی جانب سے پیش کیے گئے شواہد میں دکھایا گیا کہ کس طرح نوجوانوں کے جذبات اور خود اعتمادی سوشل میڈیا کے الگوردمز سے متاثر ہو سکتی ہے۔ یہ شواہد سوشل میڈیا کی مصنوعات کی ڈیزائن اور سرگرمیوں کے اثرات پر سوالات پیدا کر رہے ہیں۔
ماہرین نے یہ بھی کہا کہ یہ کیس مستقبل میں قوانین اور ضوابط کے لیے ایک اہم مثال بن سکتا ہے، جس سے یہ واضح ہو جائے گا کہ کمپنیوں کو صارفین کی ذہنی صحت کے حوالے سے کس حد تک جوابدہ ٹھہرایا جا سکتا ہے۔
والدین نے کہا کہ سوشل میڈیا کے اثرات کو نظر انداز کرنا نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ نوجوان اکثر اپنے جذبات اور دباؤ کو اپنے والدین یا بڑوں کے ساتھ شیئر نہیں کرتے، اور اس وجہ سے سوشل میڈیا کے اثرات غیر محسوس لیکن مستقل ہو سکتے ہیں۔
یہ کیس اس بات کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ نوجوان صارفین کی حفاظت اور محفوظ آن لائن ماحول فراہم کرنا کمپنیوں کی اخلاقی اور قانونی ذمہ داری ہے۔ اس حوالے سے Meta اور دیگر بڑی سوشل میڈیا کمپنیاں آئندہ قوانین اور ضوابط کے لیے بھی جوابدہ ہوں گی۔
عدالت میں پیش ہونے والی رپورٹوں کے مطابق Meta کے اندرونی جائزوں میں کئی بار اس بات کی نشاندہی ہوئی کہ نوجوانوں میں بیوٹی فلٹرز اور مسلسل اسکرولنگ کے اثرات ذہنی صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتے ہیں، مگر کاروباری فیصلوں نے بعض مرتبہ اس تجویز کو نظر انداز کیا۔
اس مقدمے کے نتیجے میں دنیا بھر کے والدین اور ماہرین نے سوشل میڈیا کے استعمال کے حوالے سے محتاط رہنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ اس نے نوجوانوں کے آن لائن رویے، ذہنی صحت اور کمپنی کی ذمہ داریوں پر نئی بحث کو جنم دیا ہے۔
یہ واقعہ یہ بھی واضح کرتا ہے کہ ٹیکنالوجی کمپنیوں کو صارفین کی حفاظت، شفاف معلومات اور ذمہ دارانہ فیچرز کے حوالے سے اقدامات کرنا لازمی ہے۔ نوجوانوں کے لیے محفوظ ماحول فراہم کرنا نہ صرف اخلاقی بلکہ قانونی ضرورت بھی بن چکا ہے۔
اس مقدمے نے سوشل میڈیا کے اثرات، الگوردمز، بیوٹی فلٹرز اور صارفین کے جذباتی اثرات پر عالمی سطح پر اہم سوالات پیدا کر دیے ہیں۔ عدالت کا فیصلہ مستقبل میں نوجوانوں کے آن لائن تجربات اور کمپنیوں کے ذمہ داریوں پر بڑا اثر ڈال سکتا ہے۔
ماہرین نے کہا کہ یہ کیس نہ صرف Meta بلکہ دیگر پلیٹ فارمز کے لیے سبق آموز ہے۔ یہ واضح کر رہا ہے کہ نوجوانوں کی ذہنی صحت کے تحفظ کو نظر انداز کرنا طویل المدت میں کمپنیوں کی ساکھ اور قانونی ذمہ داریوں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
یہ مقدمہ دنیا کے تمام والدین، ماہرین تعلیم اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے ایک پیغام ہے کہ نوجوانوں کی حفاظت، شفافیت اور ذمہ داری اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ یہ ایک تاریخی کیس بن سکتا ہے جو مستقبل میں سوشل میڈیا کے استعمال اور ضوابط کی سمت کو واضح کرے گا۔
2