ڈیلی پرل ویو، مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال ایک بار پھر غیر معمولی کشیدگی کی طرف بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔ ایران کے انٹیلیجنس حلقوں سے سامنے آنے والی اطلاعات نے عالمی سطح پر تشویش پیدا کر دی ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اسرائیل مقبوضہ یروشلم میں واقع مسجدِ اقصیٰ کو نشانہ بنا کر ایک ممکنہ فالس فلیگ آپریشن کر سکتا ہے۔ ایران کی خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق انٹیلیجنس وزارت کے ایک عہدیدار نے دعویٰ کیا ہے کہ اس مبینہ منصوبے میں مسجدِ اقصیٰ کمپاؤنڈ کو ڈرون یا میزائل کے ذریعے نشانہ بنانے اور بعد ازاں اس کا الزام ایران یا مزاحمتی تحریکوں پر ڈالنے کا امکان موجود ہے۔
ایرانی ذرائع کے مطابق اگر ایسا کوئی واقعہ پیش آتا ہے تو اس کا وقت بھی نہایت حساس ہو سکتا ہے۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ممکنہ حملہ یومِ القدس سے قبل کیا جا سکتا ہے۔ یومِ القدس ہر سال رمضان کے آخری جمعہ کو منایا جاتا ہے اور اس دن دنیا بھر میں فلسطین اور مسجدِ اقصیٰ کی حمایت میں ریلیاں اور مظاہرے کیے جاتے ہیں۔ اسی لیے ایران کے بعض حلقوں کا خیال ہے کہ اگر اس موقع سے پہلے کوئی بڑا واقعہ پیش آتا ہے تو اس کے ذریعے مسلم دنیا میں ایران اور مزاحمتی قوتوں کے خلاف ردِعمل پیدا کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔
اس حوالے سے بعض میڈیا رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ مسجدِ اقصیٰ کے اطراف کے علاقوں میں غیر معمولی سرگرمیاں دیکھی جا رہی ہیں۔ المیادین نے ایرانی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ بعض مقامات کو بتدریج خالی کروایا جا رہا ہے اور لوگوں کی نقل و حرکت کو محدود کیا جا رہا ہے۔ ایرانی انٹیلیجنس کے ایک عہدیدار کے مطابق یہ اقدامات کسی ممکنہ بڑے منصوبے کی تیاری کا حصہ بھی ہو سکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر مسجدِ اقصیٰ یا اس کے اطراف میں کوئی واقعہ پیش آتا ہے تو اسے ایران یا خطے کی مزاحمتی قوتوں کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے۔اسی تناظر میں ایک اور اہم پہلو اس وقت سامنے آیا جب رمضان کے مقدس مہینے میں مسجدِ اقصیٰ میں جمعہ کی نماز کے حوالے سے پابندیاں عائد کی گئیں۔ عام حالات میں رمضان کے دوران یہاں لاکھوں مسلمان عبادت کے لیے جمع ہوتے ہیں، مگر اس مرتبہ سکیورٹی خدشات کے نام پر نمازیوں کی آمد کو محدود کیا گیا۔ اسرائیلی انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی کشیدگی اور ممکنہ حملوں کے خدشات کے باعث یہ فیصلے کیے گئے ہیں۔ حکام کے مطابق صرف مسجدِ اقصیٰ ہی نہیں بلکہ یروشلم کے قدیم شہر میں موجود دیگر اہم مذہبی مقامات کے اطراف بھی سکیورٹی سخت کی گئی ہے۔
حالیہ برسوں میں ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔ شام، لبنان اور غزہ جیسے محاذوں پر دونوں فریق ایک دوسرے کے خلاف بالواسطہ یا براہِ راست کارروائیوں میں ملوث رہے ہیں۔ حالیہ مہینوں میں ڈرون اور میزائل حملوں کے الزامات اور جوابی کارروائیوں نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسجدِ اقصیٰ جیسے حساس مقام کے بارے میں سامنے آنے والی ہر خبر کو نہایت سنجیدگی سے دیکھا جا رہا ہے۔بعض تجزیہ کاروں کے مطابق المیادین نے ایرانی سورسز کے حوالے سے جو رپورٹ دی ہے اس میں یہ مؤقف بھی سامنے آیا ہے کہ ایران اور امریکہ و اسرائیل کے درمیان جاری ٹکراؤ کے بعد مسلم دنیا میں ایران کے بڑھتے اثر و رسوخ کو کمزور کرنے کی کوششیں بھی کی جا سکتی ہیں۔ ایسے میں مسجدِ اقصیٰ جیسے مقدس مقام کو کسی سازش کا حصہ بنانا نہ صرف ایک بڑا سیاسی ہتھیار بن سکتا ہے بلکہ اس کے ذریعے رائے عامہ کو بھی متاثر کیا جا سکتا ہے۔
ان تمام دعوؤں اور خدشات کے درمیان حقیقت کیا ہے، اس کا حتمی فیصلہ وقت ہی کرے گا۔ تاہم بعض مبصرین کا خیال ہے کہ یومِ القدس سے قبل اسرائیل کسی ایسی اسٹریٹجی کو اختیار کر سکتا ہے جس کے ذریعے ایک بڑا واقعہ رونما ہو اور اس کا الزام ایران یا مزاحمتی قوتوں پر ڈال کر مسلم دنیا میں شدید ردِعمل پیدا کیا جائے۔ اگر ایسا کوئی منظرنامہ سامنے آتا ہے تو اس کا بنیادی مقصد ایران کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو کمزور کرنا اور مسلم ممالک کے درمیان شکوک و شبہات کو ہوا دینا ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسجدِ اقصیٰ سے متعلق موجودہ صورتحال صرف ایک مقامی مسئلہ نہیں بلکہ پورے خطے اور عالمِ اسلام کی سیاست پر اثر انداز ہونے والا ایک انتہائی حساس معاملہ بن چکی ہے۔
1