ڈیلی پرل ویو،کل عمران مائی آ گئی۔ ویسے تو اکثر آ جاتی ہے، لیکن اتنی صبح صبح کبھی نہیں آتی،میں نے پوچھا خیر تو ہے آج اتنی صبح سویرے آئی ہو۔ کہنے لگی میں پوچھنے یہ آئی ہوں، آج جمعہ ہے کیا عدالتیں کھلی ہوں گی، میرے مکان پرقبضہ کیا ہوا ہے،آج اس مقدمے کی پیشی ہے۔ میں نے کہا نہیں، آج تو عدالتیں بند ہوں گی، سوموار کو کھلیں گی، کہنے لگی یہ کیا ظلم ہے، انصاف تو پہلے ہی نہیں ملتا، اب چار دن میں ملا کرے گا۔ میرے مقدمے کو دو سال ہو گئے ہیں، ابھی شہادتیں ہی نہیں ہوئیں۔ میں نے اسے سمجھایا ملک میں ایندھن کا بحران ہے، ایمرجنسی لگی ہوئی ہے اس لئے حکومت اور عدلیہ نے چار دن کام کا کہا ہے۔ وہ کہنے لگی تو آج جو تاریخ تھی، اب وہ کیسے پتہ چلے گی، میں نے کہا تمہارا وکیل سوموار کو جا کر معلوم کرلے گا، تم آرام سے گھر بیٹھو! آرام سے کیسے گھر بیٹھوں، ساٹھ سال عمر ہو گئی ہے، شوہر مر چکا ہے، میری زندگی میں انصاف نہ ملا تو میرے بچے کیسے حاصل کر سکیں گے، خیر میں نے اسے سمجھا بجھا کے واپس بھیج دیا، میں سوچنے لگا اگر بینکوں کو پانچ دن کھولنے کا حکم ہو سکتا ہے تو عدالتوں کو کم ازکم پانچ دن تو کھولنے کا حکم ہونا چاہیے تھے۔ انصاف کا تو پہلے ہی بہت فقدان ہے، عدالتوں میں لاکھوں کیسز زیر التواء ہیں مگر پھر خیال آیا باقی کون سے محکمے بہت کام کررہے تھے، اگر ان میں چھٹی ہو سکتی ہے تو عدالتوں میں چار دن کام سے کون سی قیامت آ جائے گی۔ کل ایک بڑے سرکاری افسر کا فون آیا، پوچھنے لگے یہ آپ ریٹائرمنٹ کے بعد گھر میں کیسے وقت گزار لیتے ہیں۔ میں تو سوچ رہا ہوں، یہ تین دن گھر میں کیسے گزار کریں گے، ہمیں تو چھ دن کام کرنے کی عادت ہے، میں نے ازراہ مذاق پوچھا،”کام کرنے کی عادت“ کہنے لگے مذاق نہ اڑائیں، ہم واقعی بہت کام کرتے ہیں، وہ کہنے لگے دیکھیں ہفتے میں جب چار دن دفاتر اور کچہریاں کھلیں گی تو تیل کی بچت ضرور ہو جائے گی مگر جن لوگوں کا روزگار ان دفاتر اور کچہریوں سے وابستہ ہے وہ تو بہت متاثر ہوں گے، ان کے بارے میں کسی نے نہیں سوچا۔ میری پھر ہنسی چھوٹ گئی۔ میں نے کہا بات تو سچ ہے، سات دن کا خرچہ چار دن میں نکالنا مشکل ہو جائے گا اس سارے عمل میں عوام کو نئی نئی باتیں بھی معلوم ہو رہی ہیں، مثلاً موٹرویز پر سپیڈ 120سے کم کرکے سو کلومیٹر کی گئی ہے تو اس کا جواز بھی تیل کی بچت کو بنایا گیا ہے۔ یعنی ملتان سے لاہور کے کلومیٹر تو اتنے ہی رہیں گے تاہم آپ سو کی رفتار سے گاڑی چلائیں گے تو پٹرول کم خرچ ہوگا۔ واہ واہ یہ تو بچت کا ایک نیا فارمولا دیا گیا ہے لیکن میرے محلے کی پرچون فروش نے ایک بڑی زبردست بات کی ہے اس نے کہا کہ اگر سب کچھ بند کر دیا جائے تو کیا رہے گا۔،پھر تو بچت ہی بچت ہوگی، ہینگ لگے نہ پھٹکری اور رنگ بھی چوکھا آئے گا۔
پرسوں پی ٹی وی ملتان سے جنرل منیجر شفقت عباس ملک کا فون آیا کہ عید شو کی ریکارڈنگ ہے، اس میں ایک بطور مہمان شریک ہوں۔ میں نے ہاں تو کردی لیکن بعد میں خیال آیا کہ پی ٹی وی مرکز تو گھر سے تقریباً پندرہ کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ پندرہ آنے اور پندرہ جانے کے ملا کے تیس کلومیٹر، خیر جانا تو تھا۔ جب میں جانے کے لئے نکلا تو دیکھا ہر سڑک پر گاڑیاں ہی گاڑیاں ہیں، کئی جگہوں پر تو ٹریفک بلاک میں پھنسنا پڑا۔ میں نے دل ہی دل میں کہا جب آج سب دفاتر بھی بند ہیں، کچہریاں بھی نہیں کھلیں، سکول کالج بھی بند کر دیئے گئے ہیں تو پھر یہ لوگ کیوں نکلے ہوئے ہیں۔ سڑکیں تو سنسان ہونا چاہئیں تھی پھر اس کا جواب خود ہی میں نے دیا کہ جب میں روزے اور فراغت کے باوجود پی ٹی وی کے عید شو میں جانے کے لئے نکلا ہوا ہوں ویسے ہی یہ لوگ بھی نکلے ہوں گے، انسان کی سرشت ایک در بند ہو تو دوسرے کئی در کھول لیتا ہے، اس لئے یہ خام خیالی ہے کہ ایسے اقدامات سے بچت ہو جائے گی، ابھی میں اسی اُدھیڑ بن میں تھا کہ پیچھے سے ہوٹر کا سائرن سنائی دینے لگا۔ بیک مرر میں دیکھا تو لائٹیں جلائے پولیس کی گاڑیاں آرہی تھیں، میں سائیڈ پر ہو گیا کیونکہ لاہور میں تازہ تازہ واقعہ ہوا ہے کہ ایک موٹرسائیکل سوار پروٹوکول کے راستے میں آ گیا تھا اس کی وہ درگت بنی کہ بے چارہ جان سے گیا، خیر گاڑیاں گزرنا شروع ہوئیں، ایک، دو، تین، چار، پانچ، پتہ چلا بڑے افسر صاحب چھٹی کے باوجود کہیں جا رہے ہیں اور ایک نہیں پانچ گاڑیاں ان کے ساتھ جا رہی ہیں۔ میں نے سوچا حکومت کہہ تو دیتی ہے ایک گاڑی استعمال کی جائے گی، مگر آگے تو افسروں کی چلتی ہے، جب وہ ہی نہیں رکیں گے تو انہیں کون روک سکتا ہے، اس سے مجھے خیال آیا کہ حکومت نے ہفتہ وار تعطیلات بڑھا کر ایندھن کی بچت کا جو منصوبہ بنایا ہے اس پر عملدرآمد کے لئے کوئی لائحہ عمل بھی بنایا گیا ہے، یا صرف ضلعوں اور ڈویژنوں کے افسروں کی صوابدید پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ ایسے تو بس عوام کے کام ہی رکیں گے، باقی کچھ نہیں رکے گا۔ پروٹوکول بھی جاری اور گاڑیوں کے قافلے بھی دندناتے نظر آئیں گے۔
یوں لگتا ہے ایندھن کی بچت کا یہ پروگرام جلد بازی میں بنایا گیا ہے، اس میں زندگی کا پہیہ روکنے کی حکمتِ عملی نظر آتی ہے حالانکہ اسے نہیں رکنا چاہیے کہ اس کے معیشت پر بعدازاں بڑے منفی اثرات مرتب ہوں گے، کورونا کے دنوں میں تو لاک ڈاؤن کی سمجھ آتی تھی، اس وقت عوام کی زندگی کو بچانے کا مرحلہ درپیش تھا، اب صرف پٹرول اور ڈیزل بچانے کے لئے عملاًزندگی کو مفلوج کر دینا کچھ زیادہ بہترحکمت عملی نہیں۔ دنیا کے دیگر ممالک بھی ہیں جنہیں ہماری طرح کی صورتِ حال کا سامنا ہے، مگر وہاں چھٹیاں بڑھانے اور مسائل کو بڑھانے کا فارمولا نہیں بنایا گیا، وقت دنیا کی سب سے کم یاب چیز ہے، پٹرول، ڈیزل اور کوئی بھی دوسری چیز اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی اسے اگر ہم قومی زندگی سے نکال دیں گے تو آگے چل کر اس کی تلافی کیسے ہوگی پھر بچت کے جو اصل سیکٹرز ہیں انہیں نظر انداز کرکے اپنے مقاصد کیسے حاصل کئے جا سکتے ہیں، مثلاً افسروں اور وزیروں مشیروں پر جو پابندیاں لگائی گئی ہیں ان پر عملدرآمد کا کیا نظام وضع کیا گیا ہے، وہ کام تو بظاہراسی طرح چل رہا ہے۔ پھر عوام یہ بھی پوچھتے ہیں کہ ان سب اقدامات سے جو بچت کرنا مقصود ہے، کیا اس سے انہیں بھی کوئی ریلیف ملے گا یا یہ کہہ کر ڈرایا ہی جاتا رہے گا کہ تیل کی قیمتیں مزید بڑھانا پڑیں گی، جن کے کام چل رہے ہیں، ان کے تو ہر حال میں چلتے رہتے ہیں، مسئلہ تو عوام کا جو ہر حال میں پس جاتے ہیں، چھوٹی مشکل سے نکلتے ہیں تو بڑی مشکل کا شکار ہو جاتے ہیں۔
2