اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ترمیم کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، جس کے تحت پٹرول کی قیمت میں 66 پیسے فی لیٹر کمی جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 52 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے۔ نئے نرخ 10 اکتوبر 2026 سے 12 اکتوبر 2026 تک نافذ رہیں گے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق پٹرول کی نئی قیمت 398 روپے 30 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 396 روپے 24 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔ اس سے قبل پٹرول کی قیمت 398 روپے 96 پیسے اور ڈیزل کی قیمت 395 روپے 72 پیسے فی لیٹر تھی، تاہم نئے نوٹیفکیشن کے بعد صارفین کو پٹرول پر معمولی رعایت ملے گی جبکہ ڈیزل استعمال کرنے والوں کو اضافی بوجھ برداشت کرنا ہوگا۔
پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ اوگرا کی سفارشات کی روشنی میں قیمتوں میں یہ ترمیم کی گئی ہے۔ حکومت نے روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کو مدنظر رکھ کر نرخوں میں تبدیلی کی جاتی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس نظام کا مقصد قیمتوں میں شفافیت کو یقینی بنانا اور عالمی رجحانات کی عکاسی فوری طور پر مقامی نرخوں میں کرنا ہے۔
وزارت پیٹرولیم کے حکام کے مطابق روزانہ قیمتوں کے تعین کا یہ طریقہ کار عوامی مفاد میں اپنایا گیا ہے۔ اس نظام کے تحت عالمی منڈی کے رجحانات کا باریک بینی سے جائزہ لے کر عوام کو ریلیف فراہم کرنے یا بڑھتی ہوئی قیمتوں کے اثرات کو متوازن رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس طریقہ کار سے قیمتوں میں اچانک بڑے اضافے کی بجائے بتدریج تبدیلیاں ہوتی ہیں، جو کاروباری برادری اور عام صارفین دونوں کے لیے بہتر ہے۔
وزیر اعظم کی جانب سے موٹر سائیکل سواروں کے لیے 100 روپے فی لیٹر ریلیف اسکیم کا اعلان بھی اسی عوام دوست پالیسی کا حصہ ہے۔ اس اسکیم کے تحت رجسٹرڈ موٹر سائیکل سواروں کو پٹرول پر 100 روپے فی لیٹر رعایت فراہم کی جائے گی، جس کا مقصد کم آمدنی والے طبقات کو مہنگائی کے بوجھ سے تحفظ دینا ہے۔ حکومت کے مطابق یہ اسکیم ملک بھر کے لاکھوں موٹر سائیکل مالکان کے لیے فوری ریلیف کا ذریعہ بنے گی۔
حکام کا کہنا ہے کہ ریلیف اسکیم کے لیے رجسٹریشن کا عمل جلد مکمل کیا جائے گا اور مستحق افراد کو باضابطہ طریقے سے رعایت فراہم کی جائے گی۔ معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگرچہ پٹرول کی قیمت میں معمولی کمی کا اعلان کیا گیا ہے، تاہم ڈیزل کی قیمت میں اضافے سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھ سکتے ہیں، جس کا بالواسطہ اثر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر بھی پڑ سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ڈیزل کی قیمت میں اتار چڑھاؤ براہ راست سپلائی چین اور مال بردار ٹرانسپورٹ کو متاثر کرتا ہے۔
عام صارفین کا کہنا ہے کہ حکومت کو عوام کو مستحکم اور دیرپا ریلیف فراہم کرنے کے لیے طویل المدتی پالیسی اپنانے کی ضرورت ہے۔ تاجر برادری کا مطالبہ ہے کہ قیمتوں میں ہونے والی تبدیلیوں کے بارے میں بروقت اور واضح اطلاعات فراہم کی جائیں تاکہ کاروباری فیصلے بہتر انداز میں کیے جا سکیں۔ عوامی حلقوں کی جانب سے یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ بین الاقوامی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ مکمل طور پر عوام تک پہنچایا جائے۔
مظفرآباد: 17.2°C، دھوئیں کی دھند | روزنامہ پرل ویو