0

غزہ میں اسرائیل کی ریاستی دہشت گردی کو دو ماہ مکمل،، ایک روز میں مزید 110 فلسطینی شہید امریکا اسرائیل کو ہتھیاروں کی فراہمی جاری رکھنے پر بضد

غزہ،عمان، واشنگٹن(صباح نیوز) غزہ میں اسرائیل کی ریاستی دہشت گردی کو دو ماہ مکمل ہوگئے، دیرالبلاح، خان یونس، نصیرات اور بریج کیمپ پر اسرائیلی کی بمباری سے ایک روز میں مزید 110سے زائد فلسطینی شہید ہوگئے، جبکہ حماس کی جانب سے خان یونس میں اسرائیلی فوجیوں اور ٹینکوں پر راکٹ حملوں میں مزید 10 اسرائیلی فوجی ہلاک جبکہ 8 زخمی ہوگئے، اسرائیلی فوج نے حماس کے جوابی حملوں میں 2 میجر سمیت 5 فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ۔7 اکتوبر سے اب تک غزہ میں انسانیت سوز اسرائیلی کارروائیوں کے نتیجے میں 7ہزارسے زائد بچوں سمیت فلسطینی شہدا ء کی مجموعی تعداد 16ہزار 248جبکہ زخمی ہونے والوں کی تعداد بھی 43ہزار 600سے متجاوز ہو چکی ہے، اسرائیل کی بلاتفریق بمباری کے نتیجے میں تباہ ہونے والی عمارتوں کے ملبے تلے 7ہزار 600سے زائد افراد اب بھی دبے ہیں۔عارضی جنگ بندی کے خاتمے کے بعد سے شہید فلسطینیوں کی تعداد ایک ہزار تک پہنچنے کا خدشہ ہے ، فلسطینی وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی فوج کے دیرالبلاح کے رہائشی علاقے میں فضائی حملے میں 50 افراد شہید ہوئے جبکہ اسرائیلی طیاروں نے 3خاندانوں کے گھروں کو نشانہ بنایا۔ غزہ شہر کے 35 میں سے 26 ہسپتال مکمل طور پر بند ہوگئے ہیں۔ اسرائیل افواج کی شہر اور رہائشی علاقوں اور پناہ گزین کیمپوں پر بمباری جاری رہی لیکن اسرائیلی ٹینکوں نے ایمبولینسوں پر بھی حملے کردئیے، فلسطینی حکام کے مطابق اسرائیلی فوج کی جانب سے ایک بار پھر فاسفورس بموں کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی افواج نے دعوی کیا ہے کہ خان یونس شہر کو مکمل گھیرے میں لے لیا گیا ہے۔ اسرائیلی افواج کی جانب سے خان یونس میں فلسطینیوں کو علاقہ خالی کرنے کی وارننگ کے ساتھ عالمی ادارہ صحت کو بھی جنوبی غزہ کا گودام چھوڑنے کا الٹی میٹم دیدیا گیا ہے، اسرائیلی بمباری سے اقوام متحدہ کے مزید 19 اہلکار مارے گئے۔ اسرائیلی حملوں کے جواب میں حماس کی جانب سے خان یونس میں اسرائیلی فوجیوں اور ٹینکوں پر راکٹ حملوں میں مزید 10 اسرائیلی فوجی ہلاک جبکہ 8 زخمی ہوگئے۔ حماس کے دعوے کے مطابق اسرائیلی افواج پر کیے جانے والے حملوں میں 24 اسرائیلی ٹینک بھی تباہ کر دئیے گئے۔ اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو نے جنگ کے بعد غزہ کی سکیورٹی سنبھالنے کا اعلان کردیا،جبکہ امریکی صدر جو بائیڈن نے الزام لگایا ہے کہ حماس نے 7 اکتوبر کو جنوبی اسرائیل پر حملے کے دوران بار بار خواتین کی عصمت دری کی اور ان کی لاشوں کو مسخ کیا ۔اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ حماس کے ساتھ جنگ ختم ہونے کے بعد اسرائیلی فوج ہی غزہ کی سکیورٹی کا کنٹرول جاری رکھے گی۔نیتن یاہو نے کسی غیر ملکی فورس کو یہ ذمہ داری سونپنے کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جنگ کے بعد غزہ کاکنٹرول کسی بین الاقوامی فورس کو نہیں دیں گے، تنازع ختم ہونے کے بعد اسے ‘فوج کے بغیر ملک’بنانا چاہیے۔دوسری جانب امریکی صدر جو بائیڈن نے اپنے ایک بیان میں زندہ بچ جانے والوں کا حوالہ دیتے ہوئے الزام لگایا کہ حماس نے 7 اکتوبر کو جنوبی اسرائیل پر حملے کے دوران بار بار خواتین کی عصمت دری کی اور ان کی لاشوں کو مسخ کیا۔بائیڈن نے الزام عائد کیا کہ گزشتہ کچھ عرصے میں بدترین ظلم کا سامنا کرنا پڑا، خواتین سے زیادتی سمیت ان کو زندہ مسخ کیا جارہا ہے، ان کی لاشوں سے بے حرمتی کی جارہی ہے، حماس کے دہشت گرد خواتین اور لڑکیوں کو زیادہ سے زیادہ درد اور تکلیف پہنچا رہے ہیں اور پھر انہیں قتل کر رہے ہیں، یہ خوفناک ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں