0

بھارتی اقدام یواین قرارداد کے منافی، پاکستان معاملہ دوبارہ سلامتی کونسل میں اٹھائے، فاروق حیدر

مظفرآباد(پرل نیوز) سابق وزیراعظم آزادکشمیر و مرکزی راہنما پاکستان مسلم لیگ ن راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا ہے کہ ہندوستانی سپریم کورٹ کا فیصلہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مغائر ہے اور اس کی کوئی بین الاقوامی حیثیت نہیں 1957 میں مقبوضہ کشمیر کی اسمبلی نے ہندوستان کے ساتھ الحاق کی قرارداد منظو ر کی تو پاکستان اس کے خلاف سلامتی کونسل میں گیا جس نے اس الحاق کو مسترد کرتے ہوے کہا کہ یہ راے شماری کا نعم البدل نہیں ،حکومت پاکستان کے پاس موقع ہے کہ 5 اگست کے کمزور حکومتی ردعمل کی وجہ سے کشمیری عوام کے اندر جو غم و غصہ ہے اس کو بھرپور ،جاندار،منظم ردعمل کے ذریعے دور کرسکتی ہے ہندوستانی سپریم کورٹ نے ہمیشہ اسٹیٹ کی پالیسی کو فیصلہ سناتے وقت فوقیت دی ہمیں پہلے سے بھی یہی توقع تھی ،پاکستان معاملہ دوبارہ سلامتی کونسل میں اٹھاے ،غزہ کے معاملے میں امریکہ نے جنگ بندی قرارداد سلامتی کونسل میں ویٹو کردی مگر اس کی اہمیت کم نہیں ہوئی حکومت پاکستان عجلت کے بجاے ٹھوس پالیسی اپناے وہ ہندوستانی سپریم کورٹ کی جانب سے دیے گئے فیصلے کے بعد سنٹرل پریس کلب میں ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے اس موقع پر سیکرٹری اطلاعات مسلم لیگ ن سابق وزیر بیرسٹر افتخارگیلانی ،زاہد امین کاشف ،خواجہ اعظم رسول بھی موجود تھے راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا کہ یہ فیصلہ مودی کے توسیع پسندانہ عزائم کی حمایت کے لیے دیا گیا ہے مقبوضہ کشمیر میں فیصلے کے بعد عوام پر مزید سختیاں بڑھا دی گئی ہیں اور اس کے خلاف آواز اٹھانے والوں کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جارہی ہیں ہندوستان میں اقلیتوں پر مظالم ڈھاے جارہے ہندوتوا کے علمبرداروں نے دیگر مذاہب کے لیے زندگی اجیرن بنا دی ہے ایسے میں اس طرح کے فیصلے سے انتہا پسندی کی بنیاد پر قائم مودی حکومت کو ایک اور سپورٹ مہیا کرنے کی کوشش کی گئی ہے مگر ا س سے کچھ حاصل ہونے والا نہیں ایک سوال کے جواب میں سابق وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور ہندوستان بین الاقوامی معاہدوں کے پابند ہیں جس کے تحت کشمیر کی حیثیت کو تبدیل کرنے کی کوشش نہیں کی جاسکتی ہندوستان خطے میں اپنی بالادستی قائم کرنے کے لیے ایک منظم ایجنڈے پر آگے بڑھ رہا ہے پاکستان اس کے رستے کی واحد رکاوٹ ہے ہمیں اندازہ ہے کہ اس وقت پاکستان کی معاشی مشکلات بہت زیادہ اور مسائل ان گنت ہیں مگر مشکل حالات میں بہترین حکمت عملی کے ذریعے ہی آگے بڑھنے کے مواقع تلا ش کیے جاسکتے ہیں اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت پاکستان کشمیری قیادت کے ساتھ مشاورت کے بعد اس واقعے پر جز وقتی ر د عمل کے بجاے کل وقتی اقدامات اٹھاے جائیں کشمیر کے حوالے سے آثار بتا رہے ہیں کہ فوج نے پرانی ڈاکٹرائن سے برات حاصل کر لی ہے سابق حکومت گلگت بلتستان کو صوبہ بنانا چاہتی تھی اس وقت اگر وہ کر گزرتے تو آج کس منہ سے ہندوستانی اقدامات کی مخالفت کرتے راجہ فاروق حیدر خان نے کہا کہ اب واحد راستہ رہ گیا ہے کہ غیر مشروط راے شماری کی قرارد اد پر بات کی جاے حکومت پاکستان کشمیریوں پر اعتماد کرے کوئی کشمیری پاکستان کو دھوکہ دینے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا مقبوضہ کشمیر کے اندر خوف کی فضا ہے عوام کو سنگینوں کے ساے تلے گھٹ گھٹ کر زندگی گزارنے پر مجبور کیا جارہا ہے ایسے میں ہماری یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ ان مظلوم بھائیوں کا مقدمہ لڑیں اور پوری تیاری و قوت اس کے لیے صرف کریں امید ہے کہ ہماری اسمبلی بھی اس حوالے سے متفقہ قرارداد پاس کرکہ ایک پیغام دے گی ہمیں اب مزید اقدامات کی ضرورت ہے ۔راجہ فاروق حیدر خان نے کہا کہ مودی کے انتہا پسندانہ عزائم اور اکھنڈ بھارت کے خواب کی تکمیل کے لیے سپریم کورٹ ہندوستان نے یہ فیصلہ دیا ہے جس کو ہم مسترد کرتے ہیں یورپ اور امریکہ کے ہندوستان کے ساتھ تجارتی مفادات ہیں او ر اب وہ انسانی حقوق کے بجاے تجارتی مفادات کو ترجیح دے رہے ہیں ہمیں ایک طویل جدوجہد کرنی ہے مگر اس سے پہلے سمت اور اپنی حکمت عملی ترتیب دینا ہوگی ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں