کراچی اسٹاک ایکسچینج کا ٹریڈنگ فلور — kse 100 index میں 779 پوائنٹس کی تیزی 2

کے ایس ای 100 انڈیکس میں زبردست تیزی — 779 پوائنٹس بڑھ کر 1 لاکھ 65 ہزار کی سطح عبور

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں kse 100 index نے شاندار واپسی کی ہے۔ بدھ کے کاروباری روز بینچ مارک انڈیکس 779.34 پوائنٹس بڑھ کر 165,930.99 پر بند ہوا۔ یہ 0.47 فیصد اضافہ تھا، جبکہ اس سے قبل یہ 165,151.64 پر تھا۔

کاروبار کے دوران انڈیکس 166,242.43 کی بلند ترین اور 164,731.91 کی کم ترین سطح کو چھوا۔ کے ایس ای 30 انڈیکس بھی 224.35 پوائنٹس بڑھ کر 49,063.88 پر بند ہوا۔ عارف حبیب لمیٹڈ کے ڈپٹی ہیڈ آف ٹریڈنگ علی نجیب کے مطابق خریداری کا رجحان نمایاں رہا۔ مارکیٹ میں ادارہ جاتی خریداری واضح تھی۔

kse 100 index میں تیزی کی وجوہات

تیزی کی بڑی وجہ امریکہ ایران تنازع کے سفارتی حل کی کوششوں پر سرمایہ کاروں کی بڑھتی ہوئی امیدیں ہیں۔ اس کے ساتھ وزیراعظم کی جانب سے مجوزہ آٹو پالیسی 2026-31 کی منظوری ملی ہے۔ اس پالیسی نے آٹو سیکٹر کے حصص کو سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔ مجوزہ پالیسی میں آٹو برآمدات کو 6 ارب ڈالر تک بڑھانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔

تیار مارکیٹ میں 379.91 ملین حصص کا کاروبار ہوا جبکہ ٹریڈڈ ویلیو 21.28 ارب روپے رہی۔ مارکیٹ کی مجموعی سرمایہ کاری (کیپٹلائزیشن) 18.38 ٹریلین روپے تک پہنچ گئی۔ تفصیل دی نیوز کی رپورٹ میں دیکھی جا سکتی ہے۔

آج کی صورتحال اور آگے کا منظر

جمعرات کی صبح ابتدائی کاروبار میں انڈیکس تقریباً 400 پوائنٹس گرا۔ اس کی وجہ آٹو اسمبلرز، سیمنٹ اور آئل و گیس سیکٹر میں فروخت کا دباؤ بنا۔ منگل کو مارکیٹ مندی کا شکار رہی تھی، اس لیے اتار چڑھاؤ برقرار ہے۔

ماہرین کے مطابق ادارہ جاتی خریداری اور سفارتی پیش رفت کی امیدیں مارکیٹ کے لیے مثبت ہیں۔ تاہم جغرافیائی سیاسی غیر یقینی اور معاشی خطرات برقرار ہیں۔ اس لیے محتاط سرمایہ کاری کا مشورہ دیا گیا ہے۔ سرمایہ کاروں کی نظریں اب آئندہ ہفتے کے معاشی اعداد و شمار اور بڑی کمپنیوں کے سہ ماہی نتائج پر ہیں۔ یہ نتائج kse 100 index کی اگلی سمت کا تعین کریں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں