19 اکتوبر 2026 کو بلاول بھٹو کا کے پی ایمرجنسی پر بیان — bilawal bhutto kp emergency 19 october 2026 13

بلاول کا بڑا مطالبہ! فضل الرحمان دہشت گردی کے خاتمے میں کردار ادا کریں

کراچی: بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان دہشت گردی کے خاتمے میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔ چیئرمین پیپلز پارٹی کے مطابق وہ گورنر راج کے تعطل کے خاتمے میں بھی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ یہ bilawal bhutto kp emergency 19 october 2026 کے حوالے سے تھا۔

ان کا یہ بیان سانحہ کارساز کی برسی کی تقریب میں سامنے آیا۔

اتوار کو کراچی میں 2007 کے کارساز دھماکوں کی یاد میں منعقدہ تقریب سے بلاول نے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ جے یو آئی (ف) کے سربراہ کو دہشت گردی کی کھل کر مذمت کرنی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گرد حملوں میں جے یو آئی کے کارکن بھی شہید ہوئے ہیں۔

بلاول بھٹو نے اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت دی۔ ان کے مطابق دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی بنے تو ایمرجنسی اور گورنر راج ختم ہو سکتا ہے۔

انہوں نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ بلاول کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت وفاق سے تعاون کرنے کو تیار نہیں۔ ان کے بقول صوبائی حکومت دہشت گردی کا مقابلہ کرنے سے گریزاں ہے۔

Bilawal Bhutto KP Emergency 19 October 2026 – گورنر راج کیوں نافذ ہوا؟

وفاقی حکومت نے 11 اکتوبر کو خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کی تھی۔ یہ ایمرجنسی آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت نافذ کی گئی تھی۔ صدر آصف زرداری نے وزیراعظم شہباز شریف کی ایڈوائس منظور کی تھی۔ حکومت کا موقف ہے کہ صوبے میں دہشت گردی کی صورتحال کے پیش نظر یہ قدم اٹھایا گیا۔

بلاول نے اپنی دلیل کے حق میں ماضی کی مثال بھی دی۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی نے 2008 سے 2013 کے دوران بلوچستان میں گورنر راج نافذ کیا تھا۔ یہ گورنر راج اس وقت صوبے میں ان کی اپنی حکومت کے خلاف نافذ کیا گیا تھا۔ اس وقت بھی دہشت گردی کی صورتحال یہ فیصلہ کی وجہ بنی تھی۔

دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے 17 اکتوبر کو دعویٰ کیا۔ ان کے بقول ایک جماعت کا سربراہ ناراض ہے کہ اسے خیبر پختونخوا کی گورنر شپ نہیں ملی۔ اس بیان کے بعد سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھ گیا ہے۔

اپوزیشن کا ردعمل اور آگے کیا ہوگا؟

اپوزیشن جماعتوں نے ایمرجنسی کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف مشترکہ جدوجہد کا اعلان کر رکھا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ صوبائی خودمختاری پر حملہ کیا گیا ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق بلاول کی پیشکش مذاکرات کا دروازہ کھول سکتی ہے۔ اگر اپوزیشن مشترکہ انسداد دہشت گردی حکمت عملی پر راضی ہو جائے تو تعطل ختم ہونے کا امکان ہے۔

اپوزیشن کے مشترکہ محاذ پر ہماری تفصیلی رپورٹ یہاں پڑھیں۔

مزید تفصیل دی نیوز کی رپورٹ میں ملاحظہ کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں