ajk crisis political solution — آزاد کشمیر کے بحران کے سیاسی حل پر کالم 8

سمارٹ لاک ڈاؤن کے بعد — آزاد کشمیر کو اب سیاسی حل کی ضرورت ہے (کالم)

ajk crisis political solution: آزاد کشمیر ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ پونچھ ڈویژن میں دس روز سے جاری شٹر ڈاؤن اب سمارٹ لاک ڈاؤن میں بدل چکا ہے۔ سیاسی رہنما متحد ہو کر صدر سے مل چکے ہیں۔ نئی کابینہ نے حلف اٹھا لیا ہے۔ یہ سب پیش رفت اس بات کی علامت ہے کہ بحران اپنے فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اس بحران کا پائیدار حل کیسے نکلے گا۔

ajk crisis political solution — بات چیت ہی واحد راستہ

تاریخ گواہ ہے کہ احتجاجی تحریکیں طاقت سے نہیں، بات چیت سے حل ہوتی ہیں۔ جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے سمارٹ لاک ڈاؤن کا اعلان کر کے لچک کا مظاہرہ کیا ہے۔ حکومت نے بھی مذاکرات کی آمادگی ظاہر کی ہے۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ باضابطہ مذاکراتی میکنزم کا اعلان کیا جائے۔ میز پر بیٹھ کر مسائل کا حل نکالنا دونوں فریقوں کے مفاد میں ہے۔ طویل ہڑتال سے عام شہری سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ تاجروں کا کاروبار تباہ ہوتا ہے۔ طلبہ کی تعلیم متاثر ہوتی ہے۔ مریضوں کو ادویات کی قلت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

1974 کے آئین اور عوامی اعتماد کی بحالی

سیاسی رہنماؤں نے 1974 کے آئین کے تحت داخلی خودمختاری کے دفاع کا عزم کیا ہے۔ یہ ایک مثبت اور تعمیری موقف ہے۔ آئینی دائرے میں رہ کر مسائل کا حل تلاش کرنا جمہوری روایت ہے۔ پونچھ میں انٹرنیٹ کی بحالی فوری ضرورت ہے۔ خوراک اور ادویات کی فراہمی یقینی بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ عوام کا اعتماد بحال کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات ناگزیر ہیں۔ نئی کابینہ کو پہلے سو دن میں واضح روڈ میپ پیش کرنا چاہیے۔

آزاد کشمیر کے عوام نے ہمیشہ پرامن جدوجہد کی روایت قائم کی ہے۔ اسی روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے سیاسی حل تلاش کیا جائے۔ بات چیت، برداشت اور آئینی عمل ہی اس بحران کا مستقل حل ہے۔ وقت ضائع کیے بغیر مذاکرات کا آغاز ہونا چاہیے۔

ماخذ: آزادی ٹائمز — سمارٹ لاک ڈاؤن کا اعلان

یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر: پونچھ میں بارودی سرنگ کا دھماکہ — خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں