kpk governors rule emergency — خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کی صورتحال 2

خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج — پی ٹی آئی عدالت پہنچ گئی

kpk governors rule emergency: خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ ہے۔ اس کے بعد صوبے کی سیاست میں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف نے اس اقدام کو عدالت میں چیلنج کیا ہے۔ پارٹی نے پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا ہے۔ یہ معاملہ آج بھی سب سے بڑی سیاسی خبر ہے۔

kpk governors rule emergency — حکومت کا موقف

وفاقی حکومت نے 11 اکتوبر 2026 کو ایمرجنسی نافذ کی۔ یہ فیصلہ وزیراعظم شہباز شریف کی کابینہ کی سفارش پر ہوا۔ صدر مملکت آصف علی زرداری نے اس کی منظوری دی۔ اقدام آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت کیا گیا۔ اس کے بعد وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی حکومت ختم ہو گئی۔

حکومت کے مطابق صوبائی حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ سے لاتعلق تھی۔ امن و امان کی صورتحال بھی بگڑ رہی تھی۔ یہی اس فیصلے کی وجہ بنی۔ فوج کو سول انتظامیہ کی مدد کے لیے تعینات کیا گیا ہے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی کی معاونت کے لیے کونسل بنائی گئی ہے۔ یہ 11 رکنی ٹیکنوکریٹ مشاورتی کونسل ہے۔ ڈاکٹر محمد فخر عالم عرفان نئے چیف سیکرٹری مقرر ہوئے ہیں۔ صوبے کے بعض علاقوں میں انٹرنیٹ میں خلل کی اطلاعات ہیں۔

پی ٹی آئی کا عدالتی چیلنج

پی ٹی آئی نے اس اقدام کو غیر آئینی قرار دیا ہے۔ پارٹی نے قانونی جنگ کا اعلان کیا ہے۔ ایڈووکیٹ سلمان نے پیر کو درخواست دائر کی۔ یہ درخواست پشاور ہائی کورٹ میں دائر ہوئی۔ صدر، وزیراعظم اور گورنر کو فریق بنایا گیا ہے۔ استدعا ہے کہ ان اقدامات کو غیر آئینی قرار دیا جائے۔ چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی عدالت جائیں گے۔ انہوں نے خود اس کا اعلان کیا ہے۔

سیاسی تجزیہ کار صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق معاملہ عدالتوں میں زیر بحث رہے گا۔ ایوانوں میں بھی اس پر بات ہوگی۔ جیو نیوز کی بدھ کی سرخیوں میں یہ خبر نمایاں رہی۔ اپوزیشن گورنر راج کے خلاف متحرک ہے۔ تمام فریقین سے تحمل کی اپیل کی جا رہی ہے۔ معاملہ آئینی دائرے میں حل ہونا چاہیے۔

kpk governors rule emergency کا یہ معاملہ اب عدالت کے فیصلے کا منتظر ہے۔

ماخذ: ٹی بی ایس نیوز

یہ بھی پڑھیں: لکی مروت میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں