پشاور ہائی کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو — kp governor rule 17 october 2026 کی نمایاں تصویر 3

اپوزیشن کا مشترکہ محاذ: کے پی میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے خلاف جدوجہد کا اعلان

پشاور ہائی کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے قائدِ حزبِ اختلاف محمود خان اچکزئی نے بڑا اعلان کیا۔ انہوں نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے خلاف مشترکہ جدوجہد کا اعلان کیا۔ kp governor rule 17 october 2026 کے اس اعلان نے قومی سیاست میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ تمام اپوزیشن جماعتوں سے رابطہ کریں گے۔ ایک آل پارٹیز کانفرنس بلا کر متفقہ حکمتِ عملی طے کی جائے گی۔

KP Governor Rule 17 October 2026 — مشترکہ جدوجہد کے اعلان کی تفصیل

اچکزئی نے واضح کیا کہ اپوزیشن آئینی بالادستی کا مطالبہ کرتی ہے۔ پارلیمنٹ کی خودمختاری اور شفاف انتخابات بھی ان کے مطالبات میں شامل ہیں۔ اپوزیشن پرامن آئینی جدوجہد پر یقین رکھتی ہے۔ وہ مذاکرات کے لیے بھی تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی قیدی کو ملاقاتیوں سے ملنے کے حق سے محروم نہیں کیا جانا چاہیے۔

پس منظر: پارلیمنٹ کی توثیق اور عدالت میں درخواستیں

انہوں نے الزام لگایا کہ وفاقی حکومت نے غیر آئینی اقدام کیا ہے۔ ان کے بقول صوبے کی منتخب حکومت ہٹا دی گئی۔ ان کے دعوے کے مطابق تحریک انصاف نے نشستیں جیتیں۔

مگر حکومت کسی اور جماعت کو سونپ دی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی بانی پر معاہدہ قبول کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ ماضی میں نواز شریف اور بے نظیر بھٹو کے ساتھ بھی ایسا سلوک روا رکھا گیا تھا۔

دوسری طرف حکومتی موقف کے حقائق بھی سامنے ہیں۔ 11 اکتوبر کو صدر مملکت نے اعلامیہ جاری کیا تھا۔ 15 اکتوبر کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس نے ایمرجنسی اور گورنر راج کے اعلامیوں کی توثیق کی۔

قراردادوں پر غور کی تحریک 214 کے مقابلے میں 56 ووٹوں سے منظور ہوئی۔ یہ انتظام ابتدائی طور پر چھ ماہ کے لیے ہے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی مشاورتی کونسل کے ساتھ امور چلا رہے ہیں۔ kp governor rule 17 october 2026 کے یہ حقائق حکومتی بیانیے کی عکاسی کرتے ہیں۔

تحریک انصاف کے بیرسٹر گوہر اور سلمان خان نے ان اقدامات کو پشاور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔ 20 اکتوبر کو سماعتیں مقرر ہیں۔ تحریک انصاف نے قیدی بانی کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کا منصوبہ بنایا تھا۔ اس کے پیشِ نظر وفاقی حکومت نے دارالحکومت میں کنٹینرز کی رکاوٹیں لگا رکھی ہیں۔

ماخذ: The News

یہ بھی پڑھیں: قومی سیاست کی تازہ خبریں اور خیبر پختونخوا کی سیاسی صورتحال

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں