13 اکتوبر کو پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی نے ٹی وی چینلز کو حکم دیا۔ چینلز دھماکوں، حملوں اور ناخوشگوار واقعات کی لائیو کوریج نہ کریں۔ صرف حکومت کی تصدیق شدہ معلومات نشر کریں۔ نشریات میں تاخیر کا نظام لگائیں۔ pemra media restrictions pakistan 17 october 2026 پر آج ہم اسی سوال پر سوچ رہے ہیں۔ ریاست اپنی ناکامیوں کی کہانی خود لکھنے کا اختیار کیوں چاہتی ہے؟
وقت یہاں اصل کہانی ہے۔ 11 اکتوبر کو خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ ہوا۔ پشاور میں اسکول کی چھت گرنے سے تیس سے زائد جانیں گئیں۔ متاثرہ خاندان جوابات مانگ رہے ہیں۔ ٹھیک دو دن بعد کیمروں کو ناخوشگوار واقعات سے روک دیا گیا۔ جب ریاست بحران میں ہو اور ہم اسے اپنی آنکھوں سے دیکھنے سے بھی محروم ہوں۔ تو جوابدہی کا آخری دروازہ بھی بند ہو جاتا ہے۔
pemra media restrictions pakistan 17 october 2026: ناخوشگوار واقعہ کا یہ مبہم جملہ ہی اصل خطرہ ہے
ہم یہ تسلیم کرتے ہیں کہ دہشت گردی کی لائیو کوریج کے نقصانات حقیقی ہیں۔ جاری آپریشنز متاثر ہو سکتے ہیں۔ خوف پھیل سکتا ہے۔ حملہ آوروں کو شہرت مل سکتی ہے۔ فروری 2023 کی پابندی، جسے نئے حکم میں دہرایا گیا، انہی خدشات کی بنیاد پر آئی تھی۔ مگر سوال یہ ہے: ناخوشگوار واقعہ کی تعریف کون کرے گا؟ یہ جملہ اتنا مبہم ہے۔ کل کو یہ کسی احتجاج، کسی مطالبے یا حکومت کے لیے ناگوار کسی بھی خبر پر لگایا جا سکتا ہے۔ کوریج کے طریقے پر ضابطہ تو سمجھ آتا ہے۔ مگر یہ بتانے کا اختیار کہ خبر ہی کون سی ہے کسی ریگولیٹر کو نہیں ہونا چاہیے۔
کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس نے 16 اکتوبر کو ان پابندیوں کو واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ اس کے افغانستان و پاکستان کے نمائندے ولی اللہ رحمانی نے خبردار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پابندیاں جائز حفاظتی اقدامات کو سرکاری معلوماتی کنٹرول اور سنسرشپ میں بدل سکتی ہیں۔ یہ صرف صحافیوں کی شکایت نہیں۔ اسی اگست میں غیر ملکی صحافیوں کے لیے نئے قواعد بھی لائے گئے۔ اسلام آباد، لاہور اور کراچی سے باہر سفر کے لیے وزارت اطلاعات کا این او سی لازمی ہے۔ تصویر واضح ہو رہی ہے: دروازے ایک کے بعد ایک بند ہو رہے ہیں۔
سچائی کا کوئی متبادل نہیں
میڈیا کا کام گواہی دینا ہے، سرکاری پریس ریلیز کا انتظار کرنا نہیں۔ جب کیمرے کسی دھماکے کی جگہ سے دور ہوں گے، تو حقائق کہاں سے آئیں گے؟ وہی حکومت سے، جس کی کارکردگی خود سوالوں کے گھیرے میں ہے۔ پشاور کے ان خاندانوں سے پوچھیں۔ جنہیں ابھی تک نہیں بتایا گیا کہ ان کے بچوں کی اسکول کی چھت کیوں گری۔ ان کے لیے تصدیق شدہ معلومات کا وعدہ کافی نہیں۔ اور یہی وہ انسانی سوال ہے۔ جو pemra media restrictions pakistan 17 october 2026 کی پوری بحث کے مرکز میں کھڑا ہے۔
ہم یہ نہیں کہتے کہ نشریاتی ضابطہ بالکل نہیں ہونا چاہیے۔ جاری سیکیورٹی آپریشن کے دوران تاخیر جائز ہے۔ تصدیق کے اصول اور ادارتی بورڈز کی ذمہ داری بھی جائز ہے۔ مگر طریقے کو ضابطے میں لائیں، خبر کو نہیں۔ جو ریاست اپنی ناکامیوں پر کیمرہ بند کرتی ہے، وہ عوام کے اعتماد پر بھی پابندی لگاتی ہے۔
خبر چھپانے سے دھماکہ نہیں رکتا، جوابدہی نہیں آتی — صرف سچ کی آواز دب جاتی ہے۔ اور دبی ہوئی آوازیں خاموش نہیں رہتیں، وہ صرف شور بنتی ہیں۔
ماخذ: کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (CPJ)
یہ بھی پڑھیں: کالم سیکشن | مزید تجزیے اور آراء
مظفرآباد: 27°C، دھوپ | روزنامہ پرل ویو