پشاور کے نجی اسکول میں چھت گرنے کا سانحہ صرف ایک حادثہ نہیں۔ یہ ہمارے تعلیمی نظام کے لیے ایک کڑا احتساب ہے۔ درجنوں معصوم بچوں کی جانیں اس لیے گئیں کہ کمزور عمارت پر غیر قانونی تعمیر کا بوجھ ڈال دیا گیا۔ سوال یہ ہے کہ اسکول کی عمارت کی حفاظت کی ذمہ داری آخر کس کی تھی؟ اور کیا باقی اسکول محفوظ ہیں؟ peshawar school safety column میں اس اہم موضوع پر بات کی گئی ہے۔
Peshawar School Safety Column — نظام کی ناکامی کہاں ہوئی
پولیس کے ابتدائی جائزے کے مطابق عمارت کا ڈھانچہ کمزور تھا۔ اس پر اضافی تعمیر کی گئی تھی۔ پہلا سوال پرائیویٹ اسکولز ریگولیٹری اتھارٹی سے ہے۔ کیا لائسنس دیتے وقت عمارت کا تکنیکی معائنہ کیا گیا تھا؟ دوسرا سوال مقامی انتظامیہ سے ہے کہ غیر قانونی تعمیر کی نشاندہی کیوں نہ ہو سکی؟ اور تیسرا سوال خود ہم سے ہے کہ کیا ہم نے کبھی اپنے بچوں کے اسکول کی عمارت کے بارے میں پوچھا؟
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں ہزاروں نجی اسکول کرائے کی رہائشی عمارتوں میں چل رہے ہیں۔ ان میں سے اکثر کا ڈیزائن اسکول کے لیے تھا ہی نہیں۔ ہنگامی اخراج کے راستے، آگ بجھانے کے آلات اور عمارت کی مضبوطی جیسے بنیادی معیارات کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔ فیس تو لاکھوں میں وصول کی جاتی ہے لیکن حفاظت پر خرچ کرنے کو تیار کوئی نہیں۔
اب کیا ہونا چاہیے
گورنر خیبرپختونخوا کا صوبے بھر میں اسکولوں کی عمارتوں کے حفاظتی آڈٹ کا حکم ایک درست قدم ہے۔ لیکن یہ آڈٹ صرف خیبرپختونخوا تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ پورے ملک میں ہر نجی اور سرکاری اسکول کی عمارت کا تکنیکی معائنہ لازمی قرار دیا جائے۔ جو عمارت معیار پر پوری نہ اترے اسے مہلت دے کر مرمت کرائی جائے یا بند کیا جائے۔
دوسری اہم بات احتساب کی ہے۔ سانحے کے ذمہ داران کو قرار واقعی سزا ملنی چاہیے۔ تاکہ آئندہ کوئی اسکول مالک بچوں کی جانوں سے کھیلنے کی جرات نہ کرے۔ والدین کو بھی چاہیے کہ اسکول کے انتخاب میں صرف نتائج اور فیس نہ دیکھیں۔ بلکہ عمارت کی حفاظت کا بھی جائزہ لیں۔ بچوں کی جانیں سب سے قیمتی ہیں اور ان کی حفاظت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔ یہی پیغام ہے کہ احتساب اور اصلاح ناگزیر ہیں۔
peshawar school safety column کے مطابق اصلاحات ناگزیر ہیں۔
ماخذ: رائٹرز — پشاور اسکول سانحے کی رپورٹ
یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر کو سیاسی حل کی ضرورت (کالم) — کوہاٹ میں ڈینگی کے کیسز میں اضافہ
مظفرآباد: 26.6°C، دھوپ | روزنامہ پرل ویو