پاکستان سمیت 18 مسلم ممالک نے کولمبیا کی جانب سے یروشلم میں سفارتخانہ کھولنے کی شدید مذمت کی ہے۔ colombia embassy jerusalem muslim countries condemn کے اس مشترکہ اعلامیے میں وزرائے خارجہ نے کہا کہ یہ اقدام اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہے اور دو ریاستی حل کی کوششوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔ یہ مشترکہ بیان جمعہ 16 اکتوبر 2026 کو جاری کیا گیا۔
Colombia Embassy Jerusalem — مشترکہ اعلامیے کے اہم نکات
مشترکہ بیان میں پاکستان، سعودی عرب، ترکی، مصر، انڈونیشیا، قطر، کویت، اردن، لبنان، لیبیا، ملائیشیا، عمان، فلسطین، الجیریا، جبوتی، صومالیہ، سوڈان اور شام کے وزرائے خارجہ شامل ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ یروشلم کی قانونی یا تاریخی حیثیت تبدیل کرنے کی کوئی بھی کوشش کالعدم ہے اور اس کا کوئی قانونی اثر نہیں۔ وزراء نے سلامتی کونسل کی قراردادوں 476 اور 478 کا حوالہ دیا جو 1980 میں منظور ہوئی تھیں۔
بیان میں کولمبیا کی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اپنے فیصلے پر نظرثانی کرے اور اسے واپس لے۔ وزرائے خارجہ نے کہا کہ کولمبیا بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور ایسے اقدامات سے گریز کرے جو فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو متاثر کریں۔ بیان میں مشرقی یروشلم کو دارالحکومت بناتے ہوئے آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ بھی کیا گیا۔
کولمبیا کا فیصلہ اور پس منظر
کولمبیا نے بدھ 14 اکتوبر کو یروشلم میں اپنا سفارتخانہ باضابطہ طور پر کھول دیا تھا۔ اس موقع پر اسرائیلی وزیر خارجہ اور کولمبیا کے وزیر خارجہ بھی موجود تھے۔ یہ فیصلہ نئے قدامت پسند صدر کے اقتدار سنبھالنے کے بعد کیا گیا جنہوں نے اپنے پیشرو کی جانب سے غزہ جنگ پر منقطع کیے گئے سفارتی تعلقات بحال کیے۔ colombia embassy jerusalem muslim countries condemn کے حوالے سے دفتر خارجہ کے ترجمان نے ہفتہ وار بریفنگ میں بھی پاکستان کے موقف کی وضاحت کی۔
ماہرین کے مطابق یروشلم کی حیثیت مشرق وسطیٰ کے تنازع کا حساس ترین موضوع ہے اور عالمی برادری کی اکثریت اپنے سفارتخانے تل ابیب میں رکھتی ہے۔ کولمبیا کا یہ قدم امریکہ سمیت ان چند ممالک کی صف میں شامل کرتا ہے جنہوں نے یروشلم میں سفارتخانے قائم کیے ہیں۔
مظفرآباد: 27°C، دھوپ | روزنامہ پرل ویو