یوکرین میں starlink ukraine restrictions 17 october 2026 کے دوران ڈرون آپریشن کی علامتی تصویر 2

سٹارلنک کی رفتار پر پابندی: یوکرینی ڈرون فضا میں بے قابو، مسک اور ٹرمپ آمنے سامنے

منگل اور بدھ کی درمیانی شب (13 اور 14 اکتوبر) یوکرینی فوج کے سٹارلنک اور سٹارشیلڈ ٹرمینل اچانک بند ہو گئے۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ٹرمینل حرکت میں تھے۔ رپورٹس کے مطابق ایک مقررہ رفتار سے اوپر پرواز کرنے والے ڈرون تقریباً 20 سیکنڈ تک سگنل کھو بیٹھے۔ اس کے بعد متعدد مشن منسوخ کرنا پڑے۔ صدر زیلنسکی کے مشیر سرگئی بیسکریسٹنوف کے مطابق فوج کو پیشگی کوئی اطلاع نہیں دی گئی تھی۔ اس حوالے سے starlink ukraine restrictions 17 october 2026 کی خبروں نے بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں ہلچل مچا رکھی ہے۔

رفتار کی حد کے بارے میں خبروں میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ ایک رپورٹ میں 100 میل فی گھنٹہ کا ذکر ہے۔ دوسری رپورٹ میں 100 کلومیٹر فی گھنٹہ بتایا گیا ہے۔ کچھ رپورٹس 160 کلومیٹر فی گھنٹہ کی بات کرتی ہیں۔ سابق وزیرِ دفاع میخائیلو فیڈوروف نے اس کی تصدیق کی ہے۔ ان کے مطابق جزوی سروس بعد میں 160 کلومیٹر فی گھنٹہ تک بحال کر دی گئی۔ اس تضاد نے اصل صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

starlink ukraine restrictions 17 october 2026: مسک کا الزام امریکا پر، ٹرمپ کا انکار

14 اکتوبر کو ایلون مسک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان دیا۔ انہوں نے لکھا کہ سٹارشیلڈ نظام امریکی حکومت کی ملکیت اور کنٹرول میں ہے۔ ان کے مطابق رفتار یا استعمال کی کوئی بھی حد امریکی فوج طے کرتی ہے۔ یہ فیصلہ "بالآخر امریکی صدر” کی طرف سے ہوتا ہے۔ لیکن 16 اکتوبر کو صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے بات کی۔ انہوں نے کہا: "یہ میں نے نہیں کیا، اور مجھے نہیں لگتا یہ ایلون نے کیا”۔ دی ٹیلی گراف کی رپورٹ کے مطابق مسک نے ایک تجویز پیش کی تھی۔ یہ تجویز ٹرمپ کی براہِ راست رضامندی سے سٹارشیلڈ کی رفتار کم کرنے کی تھی۔ رائٹرز نے آپریشنل حکم کا سراغ وائٹ ہاؤس تک پہنچایا۔ یہ دونوں دعوے مسک اور ٹرمپ کی طرف سے متنازع ہیں۔ اس لیے حتمی ذمہ داری کا تعین کسی ایک بیان کی بنیاد پر نہیں کیا جا سکتا۔

یوکرینی صدر زیلنسکی نے انٹرویوئر پیئرز مورگن سے گفتگو میں کہا: "یہ تکنیکی مسئلہ نہیں تھا، یہ ارادہ تھا”۔ انہوں نے پابندیوں کو "انتہائی تکلیف دہ” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود کو دھوکا کھایا ہوا محسوس کرتے ہیں۔ برسلز میں ان کا کہنا تھا کہ رفتار کی حد نقصان دہ ثابت ہوئی۔ یوکرینی انٹرسیپٹر ڈرون روسی شاہد ڈرونز کو نہیں روک سکے۔ رسد و جاسوسی کی سرگرمیاں بھی متاثر ہوئیں۔ واشنگٹن سن کی رپورٹ میں ان پابندیوں کو کم از کم پانچ شہری اموات سے جوڑا گیا ہے۔ تاہم یہ دعویٰ صرف اسی رپورٹ تک محدود ہے۔

بین الاقوامی ردعمل اور انٹیلی جنس پر سوالات

پولینڈ کے نائب وزیراعظم راڈوسلاو سیکورسکی نے ایکس پر مسک کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ یاد رہے کہ پولینڈ نے یوکرین کے لیے سٹارلنک سروسز خرید رکھی ہیں۔ یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ کاجا کلاس نے برسلز میں ایک بیان دیا۔ انہوں نے کہا کہ سٹارلنک یوکرین کے لیے اب بھی ناگزیر ہے۔ یورپ کے پاس قلیل مدت میں اس کا کوئی متبادل نہیں۔ امریکا میں دو جماعتی اراکین نے پینٹاگون کے انسپکٹر جنرل کو خط لکھا ہے۔ ان میں سینیٹ انٹیلی جنس کمیٹی کے دو ریپبلکن ارکان بھی شامل ہیں۔ خط میں تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

این بی سی کی رپورٹ کے مطابق چار یوکرینی اور یورپی عہدیداروں نے ایک دعویٰ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کیف پر دو روسی میزائل حملوں سے پہلے امریکا نے پیشگی اطلاع نہیں دی۔ اس پر انٹیلی جنس روکنے کے سوالات اٹھے ہیں۔ ٹرمپ نے کسی بھی روک کی تردید کی۔ انہوں نے کہا: "ہم ان کی مدد کر رہے ہیں، اور ہم انٹیلی جنس شیئر کر رہے ہیں۔” یہ ہلچل اسی دوران ہوئی۔ اس وقت ٹرمپ کیف پر روسی تیل کی ریفائنریوں پر حملے روکنے کے لیے دباؤ ڈال رہے تھے۔ وال اسٹریٹ جرنل کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ زیلنسکی ایک پیشکش کے لیے تیار ہیں۔ وہ 300 کلومیٹر سٹارلنک کوریج کی توسیع کے بدلے ریفائنری حملوں پر 100 روزہ روک لگائیں گے۔ starlink ukraine restrictions 17 october 2026 سے متعلق خبروں کا سلسلہ ابھی تھما نہیں۔ آنے والے دنوں میں مزید وضاحتیں متوقع ہیں۔

ماخذ: NBC

یہ بھی پڑھیں: بین الاقوامی خبریں، تازہ ترین عالمی خبریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں