یمن میں جمعرات اور جمعہ کو 2022 کے بعد سے شدید ترین لڑائی رپورٹ ہوئی ہے۔ الجزیرہ کے مطابق حوثی فورسز نے تعز گورنری کے مغربی محاذ پر بڑا حملہ کیا ہے جس میں مقبانہ، موزع اور جبل حبشی کے علاقے شامل ہیں۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ان دو روز میں 120 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ یمنی حکومت کے جنگی طیاروں نے جمعہ کو حوثی ٹھکانوں پر 15 سے زائد فضائی حملے کیے جو اس حملے میں پہلی براہ راست فضائی مداخلت ہے۔ houthi taiz siege Yemen کی صورتحال عالمی توجہ کا مرکز بنی ہے۔
Houthi Taiz Siege Yemen — تعز کا محاصرہ سخت تر
حوثی فورسز یمن کے تیسرے بڑے شہر تعز کا محاصرہ مزید سخت کر رہی ہیں۔ یورپی یونین نے حوثیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تعز کا محاصرہ ختم کریں تاکہ انسانی امداد پہنچائی جا سکے۔ تعز کو شدید غذائی عدم تحفظ کا سامنا ہے اور ایندھن کی قیمتیں بلیک مارکیٹ میں تین گنا بڑھ چکی ہیں۔ ہزاروں افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔
دوسری جانب جمعرات کو حوثیوں نے عدن میں المعاشیق صدارتی محل پر پانچ میزائل داغے۔ یہ محل سعودی حمایت یافتہ حکومت کا مرکز ہے۔ الجزیرہ کے مطابق وزیراعظم اور حکام محفوظ ہیں تاہم دو محافظ ہلاک ہوئے ہیں۔ یہ حملہ یمنی تنازعے میں ایک نئی کشیدگی کی نشاندہی کرتا ہے۔
علاقائی اثرات اور عالمی ردعمل
یمن میں جاری لڑائی کے علاقائی اثرات بھی مرتب ہو رہے ہیں۔ بحیرہ احمر میں جہاز رانی پہلے ہی متاثر ہے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ اقوام متحدہ اور یورپی یونین نے فوری جنگ بندی اور مذاکرات کا مطالبہ کیا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق شہری آبادی سب سے زیادہ متاثر ہو رہی ہے۔
مبصرین کے مطابق یمن کا تنازعہ مشرق وسطیٰ کی وسیع کشیدگی کا حصہ بنتا جا رہا ہے۔ پاکستان سمیت خطے کے ممالک صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ عالمی برادری سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ انسانی بحران کے حل کے لیے کردار ادا کرے۔ صورتحال پر عالمی میڈیا کی توجہ مرکوز ہے۔
houthi taiz siege Yemen کے حوالے سے اقوام متحدہ بھی متحرک ہے۔
ماخذ: الجزیرہ — تعز میں حوثیوں کے محاصرے کی رپورٹ
یہ بھی پڑھیں: حوثیوں کا آرامکو ہیڈکوارٹر پر میزائل حملہ — خلیجی کشیدگی اور پاکستان کی معیشت (کالم)
مظفرآباد: 26.6°C، دھوپ | روزنامہ پرل ویو