واشنگٹن — امریکی فوج نے آج ایک بڑا دعویٰ کیا ہے۔ اس کے مطابق Strait of Hormuz 18 October 2026 کو جہاز رانی کے لیے مکمل طور پر کھلا ہے۔ سینٹرل کمانڈ کے ترجمان نیوی کیپٹن ٹم ہاکنز نے یہ بات فاکس نیوز ڈیجیٹل کو بتائی۔
ان کے مطابق ایرانی حملوں کے باوجود 97 فیصد جہاز محفوظ گزرے ہیں۔ مربوط بحری تحفظ کی کوششوں سے ہزاروں تجارتی جہازوں کی مدد کی گئی۔ ہاکنز نے کہا کہ ایرانی حملوں کی اکثریت ناکام رہی ہے۔ آج بھی جہاز اس آبنائے سے گزر رہے ہیں۔
جی ایف ایس پرائڈ کا ڈوبنا اور حملوں میں تیزی
یہ دعویٰ اس وقت سامنے آیا جب رواں ہفتے حملوں میں نمایاں اضافہ ہوا۔ رائٹرز کے مطابق بدھ 14 اکتوبر کو ایک بڑا واقعہ پیش آیا۔ سنگاپور کے پرچم والا کنٹینر جہاز جی ایف ایس پرائڈ ہتھیار لگنے سے آگ کی لپیٹ میں آ گیا۔ بعد میں یہ جہاز ڈوب گیا۔
سنگاپور کی میری ٹائم اتھارٹی کے مطابق 21 عملے کے ارکان کو بحفاظت نکال لیا گیا۔ کوئی زخمی نہیں ہوا۔ رائٹرز کے مطابق 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ کے بعد یہ ڈوبنے والا دوسرا جہاز ہے۔
ایک الگ واقعے میں بلک کیریئر کیپ ڈاؤ بھی ڈوبنے کے قریب ہے۔ اس پر 23 ستمبر کو حملہ ہوا تھا۔ اس حملے میں عملے کا ایک رکن جاں بحق ہوا تھا۔ ایران کا کہنا ہے کہ وہ امریکی ناکہ بندی کے جواب میں حملے بڑھا رہا ہے۔
Strait of Hormuz 18 October 2026 اور عالمی تیل منڈی
جنگ سے پہلے عالمی تیل اور گیس کی تجارت کا پانچواں حصہ اسی آبنائے سے گزرتا تھا۔ رائٹرز کے مطابق دو سینئر ایرانی عہدیداروں نے اہم انکشاف کیا۔ ان کے بقول تہران تیل کی قیمتوں کو اونچا رکھنا چاہتا ہے۔
ماہرین کے مطابق Strait of Hormuz 18 October 2026 کی کشیدگی منڈیوں میں بے یقینی پیدا کر چکی ہے۔ رواں ہفتے ایک ہی دن میں چھ جہازوں پر حملوں کا ریکارڈ بنا۔ مزید تفصیل رائٹرز کی رپورٹ میں پڑھیں۔
کولمبیا کے سفارت خانے کی منتقلی پر مسلم ممالک کے ردعمل کی ہماری خبر بھی پڑھیں۔
مظفرآباد: 28°C، دھوپ | روزنامہ پرل ویو