غیر سرکاری تنظیم بی ٹی ایم کو 54 کنال اراضی الاٹمنٹ 2011 میں کی گئی غیر سرکاری تنظیم کی محکمہ سوشل ویلفیئر سے بھی غلط بیانی کا انکشاف،دستیاب معلومات کے مطابق 14 سال بعد اراضی حاصل کرنے کیلئے زندہ ہو جانیوالی این جی او کا وجود ہی ریاست میں موجود نہیں جبکہ بیورو کریسی اور بااثر حلقوں کی آشیر باد سے اس این نی او کی رجسٹریشن سالہا سال بحال رکھی گئی ہے۔
#اس حوالے سے آئی ٹی سی نے محکمہ سوشل ویلفیئر کے اعلیٰ آفیسر سے بات کی ہے،آفیسر نے اس شرط پر آئی ٹی سی کو متعلقہ معلومات دیں ہیکہ ان کا نام ظاہر نہیں کیا جائیگا ،آفیسر کے مطابق حکام محکمہ سوشل ویلفیئر کے اعلی ذمہ داران کیلئے زمین کے این جی او کو حصول کیلئے مکتوب تحریر کرنے کیلئے گزشتہ چند ہفتوں سے دباو ڈال رہے تھے،جبکہ محکمہ مال کی جانب سے مذکورہ این جی او کو کئی برس قبل ہونیوالی الاٹمنٹ کا بھانڈہ ایک مکتوب کے سوشل میڈیا پر سامنے آنے پر پھوٹ گیا،
#آفیسر کے مطابق محکمہ نے مکتوب تو تحریر کیا لیکن مکتوب پر بنا کوئی کاروائی کیے کو کمشنر آفس بھیجنے کے بجائے اسے محکمہ میں ہی روک لیا گیا تھا،جہاں سے محکمہ کے اندر موجود نا معلوم شخص نے اسے سوشل میڈیا پر وائرل کیا،جبکہ این جی او کی رجسٹریشن بھی غلط بیانی پر منسوخ کئے جانے کا امکان یے۔
#آفیسر کے مطابق اسوقت حکومتی و با اثر حلقوں میں اس این جی او کو بچانے کیلئے بھرپور مہم شروع کر دی گئی ہے،جبکہ بعض ریاستی شخصیات،بیوروکریسی کے آفیسرز کو اس این جی او کی جانب سے اندرون اور بیرون ملک دورہ جات بھی کروائے جاتے رہے ہیں۔
#آفیسر کے مطابق بی ٹی ایم کے نام سے آزاد کشمیر محکمہ سوشل ویلفیئر میں رجسٹرڈ کی گئی تنظیم گزشتہ کئی سالوں سے مطلوبہ کوائف پر پورا نہ اترنے کے باوجود بھی رجسٹرڈ ہے،جبکہ مذکورہ این جی او نے غلط بیانی کرکے محکمہ سے مکتوب تحریر کروایا جس کے لئے محکمہ افیسرز پر دباو بھی ڈالا گیا،جبکہ بی دی مرسی فل نامی تنظیم کو زمین کی فراہمی کا محکمہ سوشل ویلفیئر سے کوئی تعلق ہی نہیں تھا۔
#بورڈ آف ریونیو آنے 2011 میں 54 کنال اراضی این جی او کو پہلے سے الاٹ کر رکھی ہے جس پر اس تنظیم نے گزشتہ کئی سال سے خاموشی اختیار کر رکھی تھی اور 14 سال گزر جانے کے باوجود جن مقاصد کیلئے یہ زمین حاصل کی گئی تھی ان مقاصد کیلئے استعمال میں ہی نہ لائی گئی.اس حوالے سے آفیسر نے یہ امکان ظاہر کیا ہے کہ ممکنہ طور پر کوئی بڑی بیرونی فنڈنگ حاصل ہو جانے پر مزکورہ تنظیم اس زمین کو حاصل کرنے کیلئے سرگرم ہو چکی ہے سوشل ویلفیئر کو صرف مکتوب تحریر کرنے کیلئے استعمال کیا جا رہا تھا حالانکہ محکمہ کا زمین کی الاٹمنٹ سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے۔
#اس معاملے پر آئی ٹی سی ذرائع کو موصول ہونیوالی اطلاعات کے مطابق رجسٹریشن کے منسوخی کیلئے تحقیقات مکمل کر لی گئی ہیں جبکہ محکمہ اس مکتوب سے بھی لاتعلق ہو جائے گا جبکہ مذکورہ تنظیم کو بورڈ آف ریونیو کی جانب سے الاٹ کی گئی اراضی کی منسوخی کا ابھی تک کوئی امکان نہیں ہے این جی او ذمہ داران اور بااثر حلقے معاملہ ٹھنڈا ہونے کا انتظار کریں گے اس وقت این جی او کو مدد کرنے کیلئے سول سرکاری ذمہ داران پر شدید دباو ہے۔