ذہنی صحت اور ڈپریشن 3

پہلا قومی ذہنی صحت سروے: ہر تین میں سے ایک پاکستانی ذہنی مرض کا شکار

کراچی — Mental health Pakistan 18 October 2026 کی سب سے اہم خبر یہ ہے کہ ملک کا پہلا قومی ذہنی صحت سروے منظر عام پر آ گیا ہے۔ اس کے مطابق ہر تین میں سے ایک بالغ پاکستانی کسی نہ کسی ذہنی مرض کا شکار ہے۔

یہ پاکستان میں اب تک کا سب سے بڑا اور جامع ذہنی صحت کا مطالعہ ہے۔ پانچ سالہ تحقیق برٹش میڈیکل جرنل میں شائع ہوئی ہے۔ پاکستان سائیکائٹرک سوسائٹی کے محققین کے مطابق یہ اعداد پہلی بار قومی سطح پر مرض کی اصل صورت واضح کرتے ہیں۔

تحقیق کی قیادت ہمدرد یونیورسٹی کراچی کے پروفیسر رضا الرحمن نے کی۔ ان کے ساتھ برطانیہ کے برائٹن اینڈ سسیکس میڈیکل اسکول اور امریکہ کی یونیورسٹی آف ساؤتھ فلوریڈا کے ماہرین شامل تھے۔ چاروں صوبوں کے تقریباً 18 ہزار بالغ افراد نے 2018 سے 2022 تک اس سروے میں حصہ لیا۔

سروے کے چونکا دینے والے نتائج

تحقیق میں 32.3 فیصد بالغ افراد میں ذہنی اور رویے کے عوارض پائے گئے۔ زندگی بھر میں یہ شرح 37.9 فیصد رہی۔ ہر پانچ میں سے ایک بالغ پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر کا شکار نکلا۔ دس میں سے ایک سے زیادہ افراد ڈپریشن میں مبتلا پائے گئے۔

چھ فیصد افراد نے پچھلے ایک ماہ میں خودکشی کے خیالات کا اعتراف کیا۔ ایک فیصد نے زندگی میں کبھی نہ کبھی خودکشی کی کوشش کی تھی۔ چالیس سال سے زائد عمر، خواتین، شہری علاقوں، بیوہ یا طلاق یافتہ افراد اور بے روزگار لوگوں میں شرح زیادہ پائی گئی۔

Mental health Pakistan 18 October 2026: ماہرین کی سفارشات

پاکستان سائیکائٹرک سوسائٹی کے صدر پروفیسر واجد اکھن زادہ کے مطابق یہ اعداد پالیسی سازی کے لیے قیمتی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ملک میں ماہرین کی شدید کمی ہے اور تربیت یافتہ عملے کی اشد ضرورت ہے۔

محققین نے سفارش کی ہے کہ ذہنی صحت کی خدمات کو بنیادی صحت کے نظام میں ضم کیا جائے۔ کمیونٹی سطح پر سپورٹ سسٹم میں سرمایہ کاری بڑھائی جائے۔ فرنٹ لائن ورکرز کی تربیت اور بدنامی کے خاتمے کے لیے مسلسل کوششیں کی جائیں۔ ماہرین کے مطابق Mental health Pakistan 18 October 2026 کے یہ اعداد فوری عمل کا مطالبہ کرتے ہیں۔ مزید تفصیل ڈان کی رپورٹ میں پڑھیں۔

پولیو کے نئے کیس پر ہماری خبر بھی پڑھیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں