پاکستان میں غربت — Pakistan poverty crisis 3

معیشت سنبھل رہی ہے، عوام نہیں: غربت کے اعداد پر سوچنے کا وقت

بینکاک میں گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے عالمی سرمایہ کاروں کو خوشخبری سنائی۔ زرمبادلہ کے ذخائر 21.5 ارب ڈالر ہو گئے۔ معیشت مالی سال 26 میں 3.7 فیصد بڑھی۔ مہنگائی ہدف کے قریب آ گئی۔ یہ سب سچ ہے، اور اس پر خوشی بھی بنتی ہے۔ مگر pakistan poverty crisis 18 october 2026 کے اعداد ایک دوسری کہانی سناتے ہیں۔

لیکن اسی ہفتے ورلڈ بینک کی ایک رپورٹ بھی آئی ہے۔ اس کے مطابق Pakistan poverty crisis 18 October 2026 کی صورت یہ ہے کہ پاکستان مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ، افغانستان اور پاکستان کے خطے کے انتہائی غریب افراد کا 48 فیصد حصہ رکھتا ہے۔

یہ صرف ایک اعداد نہیں ہے۔ 2018-19 سے 2024-25 کے درمیان تین ڈالر روزانہ کی خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے والوں کی شرح میں 6.4 فیصد پوائنٹس کا اضافہ ہوا۔ 4.20 ڈالر کی لائن پر یہ شرح 48 فیصد تک پہنچ گئی، جو 2018 میں 44.7 فیصد تھی۔

ورلڈ بینک کے مطابق وجوہات معلوم ہیں: کرونا کی وبا، 2022 کا تباہ کن سیلاب، بلند مہنگائی، روپے کی قدر میں کمی اور طویل معاشی ایڈجسٹمنٹ۔ یہی وہ عوامل ہیں جنہوں نے عام گھرانوں کی آمدنی اور روزگار کے مواقع کو کمزور کیا۔

سوال یہ ہے کہ جب معیشت بحال ہو رہی ہے تو عوام کیوں نہیں سنبھل رہے؟ جواب اتنا مشکل نہیں۔ ذخائر بڑھانا اور خسارہ کم کرنا ضروری ہے، لیکن یہ سب اوپر کی سطح کے کام ہیں۔ غربت گھروں میں رہتی ہے، جہاں مزدور کی اجرت نہیں بڑھتی اور مہنگائی ہر ماہ بجٹ کھا جاتی ہے۔

میری رائے میں ہماری معاشی پالیسی کی سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ وہ سرمایہ کار کو تو دکھائی دیتی ہے، مزدور کو نہیں۔ بینکاک کے اجلاس میں جے پی مورگن اور سٹی بینک کے عہدیدار بیٹھے تھے۔ کراچی کی مارکیٹ میں سبزی بیچنے والا وہاں موجود نہیں تھا۔

Pakistan poverty crisis 18 October 2026 اور خواتین کا بوجھ

غربت کا بوجھ سب سے زیادہ دیہی خواتین اٹھاتی ہیں۔ شائع شدہ لیبر فورس اعداد کے مطابق زراعت میں خواتین کی ملازمت کا حصہ 61 فیصد بتایا جاتا ہے، اور ان میں سے اکثر بغیر اجرت کے خاندانی کام کرتی ہیں۔ ان کی محنت معیشت کے اعداد میں کہیں نظر نہیں آتی۔

یہی وجہ ہے کہ ذہنی صحت کا قومی سروے بھی اسی کہانی کا دوسرا رخ ہے۔ جب ہر تین میں سے ایک بالغ ذہنی مرض کا شکار ہو تو یہ صرف طبی مسئلہ نہیں، معاشی دباؤ کی علامت بھی ہے۔

حل کیا ہے؟ پہلا قدم یہ تسلیم کرنا ہے کہ نمو اور غربت میں کمی خودکار طور پر ساتھ نہیں چلتے۔ دوسرا، بجٹ کی ترجیحات بدلنی ہوں گی۔ مزدوروں پر مبنی صنعتوں، زرعی آمدنی اور ہدف شدہ نقد امداد کو مرکز میں لانا ہو گا۔

تیسرا، قیمتوں کا استحکام صرف شرح کے اعداد میں نہیں، بازار کی سطح پر محسوس ہونا چاہیے۔ چوتھا، روزگار پیدا کرنے والی پالیسی کو قرضوں اور ذخائر کی پالیسی جتنی ہی اہمیت دینی ہو گی۔

معیشت کا سنبھلنا خوش آئند ہے، لیکن یہ منزل نہیں، صرف راستہ ہے۔ اصل امتحان یہ ہے کہ عام پاکستانی کی زندگی بھی سنبھلتی ہے یا نہیں۔ Pakistan poverty crisis 18 October 2026 کے اعداد بتا رہے ہیں کہ ابھی بہت فاصلہ باقی ہے۔ مزید تفصیل آج نیوز کی رپورٹ میں پڑھیں۔

گزشتہ روز کا کالم یہاں پڑھیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں