وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بنکاک میں انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن کے علاقائی نائب صدر سے ملاقات میں ریکوڈک منصوبے کے لیے آئی ایف سی کی مالی معاونت پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ reko diq ifc financing pakistan کے حوالے سے یہ اہم ملاقات ورلڈ بینک گروپ اور آئی ایم ایف کے سالانہ اجلاس کے موقع پر ہوئی۔ وزیر خزانہ نے ریکوڈک منصوبے سے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔
Reko Diq IFC Financing — ملاقات کی تفصیل
ذرائع کے مطابق ملاقات میں آئی ایف سی کے پاکستان میں سرمایہ کاری کے پورٹ فولیو کو بڑھانے پر غور کیا گیا۔ چھوٹے کاروباروں کی مالی معاونت، سرمایہ بازاروں کی ترقی اور گرین بانڈز جیسے موضوعات زیر بحث آئے۔ وزیر خزانہ نے کان کنی کے بنیادی ڈھانچے اور ویلیو ایڈیشن میں سرمایہ کاری پر بھی بات کی۔
ریکوڈک بلوچستان کے ضلع چاغی میں تانبے اور سونے کی کان کنی کا منصوبہ ہے جس کی مالیت تقریبا 7 ارب ڈالر ہے۔ منصوبے میں بیرک گولڈ 50 فیصد حصے کے ساتھ مرکزی آپریٹر ہے جبکہ باقی حصہ حکومت پاکستان اور حکومت بلوچستان میں تقسیم ہے۔ منصوبے سے 37 سال میں 74 ارب ڈالر کے مالی بہاؤ کی توقع ہے۔
معیشت پر اثرات اور آئندہ کے مراحل
ماہرین معاشیات کے مطابق ریکوڈک منصوبہ پاکستان کی برآمدات میں نمایاں اضافے کا باعث بنے گا۔ reko diq ifc financing pakistan کے تحت آئی ایف سی کی قیادت میں مالی بندش سے منصوبے کو حتمی شکل ملے گی۔ تعمیراتی کام کا آغاز اور 2028 میں تجارتی پیداوار کا ہدف مقرر ہے۔
ملاقات میں سستی رہائش، زراعت میں کولڈ چین کے بنیادی ڈھانچے اور الیکٹرانک گودام رسیدوں کے ذریعے مالی معاونت جیسے موضوعات بھی زیر بحث آئے۔ دونوں فریقین نے نجی شعبے کی قیادت میں ترقی اور روزگار کے مواقع بڑھانے کے لیے آئی ایف سی کے کردار کو وسعت دینے پر اتفاق کیا۔
ماخذ: بزنس انسائیڈر — وزیر خزانہ کی آئی ایف سی حکام سے ملاقات
مظفرآباد: 27°C، دھوپ | روزنامہ پرل ویو