کراچی: آل پاکستان صرافہ ایسوسی ایشن کے مطابق سونے کی قیمت میں ایک بار پھر اضافہ دیکھا گیا ہے۔ 11 اکتوبر 2026 کو 24 قیراط فی تولہ سونے کی قیمت 437,500 سے 442,036 روپے تک ریکارڈ کی گئی، جو گزشتہ نرخ کے مقابلے میں 1,100 روپے فی تولہ اضافے کو ظاہر کرتی ہے۔ ملک بھر کی صرافہ مارکیٹوں میں خریداروں اور تاجروں نے قیمتوں میں اس اضافے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
صرافہ ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری کردہ نرخوں کے مطابق دس گرام سونے کی قیمت 375,090 سے 378,974 روپے تک رہی۔ مختلف شہروں میں سونے کے نرخوں میں معمولی فرق دیکھا جاتا ہے، جو مقامی مارکیٹ کی صورتحال اور طلب و رسد کے مطابق طے ہوتے ہیں۔ کراچی، لاہور اور اسلام آباد کی بڑی صرافہ مارکیٹوں میں سونے کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان غالب رہا۔
بین الاقوامی مارکیٹ میں سونے کی قیمت 4,195 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق عالمی سطح پر سونے کی قیمتوں میں اضافے کی بنیادی وجوہات میں ڈالر کی قدر میں اتار چڑھاؤ، عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال اور سرمایہ کاروں کی محفوظ سرمایہ کاری کی جانب رجحان شامل ہے۔ جب بین الاقوامی مارکیٹ میں سونے کی قیمت بڑھتی ہے تو اس کا براہ راست اثر مقامی مارکیٹ کے نرخوں پر بھی پڑتا ہے۔
چاندی کی قیمت بھی بلند سطح پر برقرار ہے۔ صرافہ ایسوسی ایشن کے مطابق فی تولہ چاندی کی قیمت 6,555 روپے ریکارڈ کی گئی۔ چاندی کی قیمتوں میں استحکام کے باعث زیورات اور صنعتی استعمال کے لیے چاندی خریدنے والوں کو بھی زیادہ ادائیگی کرنا پڑ رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ چاندی کی قیمتوں کا رجحان بھی سونے کی قیمتوں کے ساتھ منسلک ہوتا ہے۔
صرافہ تاجروں کے مطابق سونے کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث زیورات کی فروخت متاثر ہو رہی ہے۔ عام صارفین کے لیے شادی بیاہ کے مواقع پر سونا خریدنا مزید مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ تاجر برادری کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں مسلسل اضافے سے مارکیٹ میں خریداروں کی تعداد میں کمی واقع ہوئی ہے، تاہم سرمایہ کاری کے مقصد سے سونا خریدنے والوں کی دلچسپی برقرار ہے۔
معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ سونے کو روایتی طور پر محفوظ سرمایہ کاری سمجھا جاتا ہے، اسی لیے عالمی غیر یقینی صورتحال کے دوران سرمایہ کار سونے کی جانب رجوع کرتے ہیں، جس سے اس کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر عالمی سطح پر معاشی استحکام آتا ہے تو سونے کی قیمتوں میں کمی کا امکان بھی موجود ہے، تاہم فی الحال مارکیٹ میں تیزی کا رجحان غالب ہے۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ حکومت کو سونے کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات سے عام آدمی کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں۔ صارفین کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ صرافہ مارکیٹوں میں قیمتوں کی شفافیت کو یقینی بنایا جائے اور غیر قانونی منافع خوری کے خلاف سخت کارروائی کی جائے تاکہ خریداروں کو مناسب نرخوں پر سونا دستیاب ہو سکے۔
مظفرآباد: 17°C، دھوئیں کی دھند | روزنامہ پرل ویو