اسلام آباد: قومی حسابات کمیٹی نے مالی سال 26 کی چوتھی سہ ماہی کے معاشی اعداد جاری کر دیے ہیں۔ سرکاری اعداد کے مطابق اپریل سے جون 2026 کے دوران جی ڈی پی کی نمو صرف 2 فیصد رہی۔ pakistan gdp growth کی یہ شرح گزشتہ سہ ماہیوں کے مقابلے میں نمایاں کمی کو ظاہر کرتی ہے۔
کمیٹی کے 118 ویں اجلاس کی صدارت سیکرٹری پلاننگ نے کی۔ اجلاس پاکستان بیورو آف شماریات اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ جاری کردہ اعداد کے مطابق تیسری سہ ماہی میں نمو 4.42 فیصد، دوسری میں 4.31 فیصد اور پہلی میں 3.89 فیصد رہی تھی۔
صنعتی شعبہ چوتھی سہ ماہی میں 4.7 فیصد سکڑ گیا۔ لارج اسکیل مینوفیکچرنگ میں 0.41 فیصد اضافہ ہوا جبکہ کان کنی 8.9 فیصد بڑھی۔ تعمیرات کا شعبہ 3.52 فیصد بہتر رہا مگر بجلی، گیس اور پانی کی فراہمی میں 33.19 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
زرعی شعبے نے 3.7 فیصد اور خدمات کے شعبے نے 3.62 فیصد نمو حاصل کی۔ معیشت کا مجموعی حجم 126.4 کھرب روپے (تقریباً 450.4 ارب ڈالر) رہا۔ فی کس آمدنی 5 لاکھ 31 ہزار 897 روپے (تقریباً 1896 ڈالر) ریکارڈ کی گئی۔
Pakistan GDP Growth — پورے سال کی صورتحال
مالی سال 26 کی مجموعی نمو 3.65 فیصد رہی جو پہلے کے 3.70 فیصد کے تخمینے سے کم ہے۔ مالی سال 25 کی نمو بھی نظرثانی کے بعد 3.18 سے کم ہو کر 3.11 فیصد ہو گئی۔
سرکاری مؤقف کے مطابق سست روی کی وجوہات میں بلند بنیادی اثر، سبسڈی میں کمی اور ڈیفلیٹر کی ایڈجسٹمنٹ شامل ہیں۔ بعض تجزیہ کاروں نے آبنائے ہرمز کے بحران سے توانائی کی بڑھتی لاگت کو بھی ایک سبب قرار دیا ہے۔
ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے مالی سال 27 کے لیے 3.5 سے 4 فیصد نمو کی پیشگوئی کی ہے۔ درآمدی اعداد میں بھی نظرثانی کی گئی جس کے تحت مالی سال 21 سے 25 کے دوران مجموعی درآمدات 14.8 ارب ڈالر بڑھ گئیں۔
ماہرین کی رائے
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ pakistan gdp growth کو پائیدار بنانے کے لیے صنعتی شعبے کی بحالی ناگزیر ہے۔ توانائی کی قیمتوں میں استحکام اور برآمدات میں اضافہ آئندہ سال کی نمو کے لیے کلیدی ہو گا۔
حکومت کا دعویٰ ہے کہ معاشی اصلاحات کے ثمرات بتدریج سامنے آ رہے ہیں۔ زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری اور مہنگائی میں کمی اس کی مثالیں ہیں۔
معیشت کی مزید خبر یہاں پڑھیں: ترسیلات زر کا ریکارڈ۔
مزید تفصیل آئل پرائس کی رپورٹ میں ملاحظہ کریں۔
مظفرآباد: 28.3°C، دھوپ | روزنامہ پرل ویو