اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی عمارت 3

گورنر اسٹیٹ بینک کی بڑی خوشخبری: ذخائر 21.5 ارب ڈالر، معیشت اب جھٹکوں سے محفوظ

کراچی — SBP Governor 18 October 2026 کو بینکاک میں عالمی سرمایہ کاروں سے ملے۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق گورنر جمیل احمد نے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے سالانہ اجلاس کے موقع پر یہ اہم ملاقاتیں کیں۔

ان ملاقاتوں میں جے پی مورگن، سٹی بینک، جیفریز، ڈوئشے بینک، بارکلیز، بینک آف امریکہ، ایم ایس سی آئی، اسٹینڈرڈ چارٹرڈ اور مٹسوبشی یو ایف جے کے سینئر عہدیدار شریک ہوئے۔ گورنر نے دو طرفہ شراکت داروں، دیگر مرکزی بینکوں اور عالمی ریٹنگ ایجنسیوں سے بھی ملاقات کی۔

SBP Governor 18 October 2026: ذخائر اور مہنگائی کے اعداد

گورنر کے مطابق زرمبادلہ کے ذخائر فروری 2023 میں تین ارب ڈالر سے کم تھے۔ اب 9 اکتوبر 2026 تک یہ 21.5 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں۔ اسٹیٹ بینک کی فارورڈ ذمہ داریاں بھی 5.7 ارب ڈالر سے گھٹ کر ایک ارب ڈالر سے کم رہ گئیں۔

مہنگائی مالی سال 23 کی بلند سطح سے گھٹ کر مالی سال 26 میں ہدف کے قریب آ گئی۔ یہ بہتری تیل کی قیمتوں کے بڑے جھٹکے کے باوجود حاصل ہوئی۔ مجموعی ملکی پیداوار مالی سال 23 کے سکڑاؤ کے بعد مالی سال 26 میں 3.7 فیصد تک بحال ہوئی۔

اسٹیٹ بینک مالی سال 27 میں 3.5 سے 4.5 فیصد نمو کی توقع رکھتا ہے۔ مالیاتی محاذ پر مسلسل تیسرے سال بنیادی بجٹ سرپلس حاصل ہوا ہے۔ اس کے نتیجے میں قرض کا جی ڈی پی سے تناسب کم ہو رہا ہے۔

ایکسچینج کمپنیوں کے لیے ریگولیٹری اصلاحات اور رسمی ذرائع سے ترسیلات کی حوصلہ افزائی نے انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی دستیابی بہتر کی ہے۔ گورنر کے مطابق زرمبادلہ کی خریداری جاری رہے گی اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ مالی سال 27 میں جی ڈی پی کا صفر سے ایک فیصد رہے گا۔

ماہرین کے مطابق SBP Governor 18 October 2026 کے بیانات سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے گا۔ آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدہ اصلاحات کے جاری رہنے کی علامت ہے۔ مزید تفصیل بزنس ریکارڈر کی رپورٹ میں پڑھیں۔

ریکو ڈک میں آئی ایف سی کی ممکنہ سرمایہ کاری پر ہماری خبر بھی پڑھیں۔ ہفتہ وار مہنگائی کے تازہ اعداد پر ہماری رپورٹ بھی دیکھیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں