ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں اہم مذاکرات ہوئے۔ ان مذاکرات (Oslo Ukraine talks) میں یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی اور امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف شریک ہوئے۔ ان مذاکرات کے بعد امن کی کوششیں ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہیں۔ منگل 20 اکتوبر کو یہ ملاقات ہوئی۔ ناروے کے وزیر اعظم یوناس گار اسٹورے اور فن لینڈ کے صدر الیگزینڈر اسٹب بھی شریک تھے۔ صدر ٹرمپ کے داماد اور خصوصی مشیر جیرڈ کشنر فلو کے باعث ویڈیو لنک کے ذریعے شامل ہوئے۔
ناروے کے وزیر اعظم کے دفتر کے مطابق یہ ملاقات یوکرین کی درخواست پر منعقد کی گئی۔ اس کا مقصد سفارتی کوششوں کو ”زیادہ تعمیری سمت“ کی طرف موڑنا تھا۔ مذاکرات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں اسٹورے نے بتایا کہ بات چیت ”اچھی اور تعمیری“ رہی۔ اس میں یوکرین کی سلامتی اور جنگ کے بعد خوشحالی کے منصوبے زیر بحث آئے۔ علاقائی تنازعات، پابندیوں اور یورپ کے سیکیورٹی نظام پر بھی بات ہوئی۔ برطانیہ، فرانس، جرمنی اور پولینڈ کے قومی سلامتی مشیر بھی عشائیے میں شریک ہوئے۔ یورپی یونین اور نیٹو کے مشیر بھی بعد میں رہنماؤں کے عشائیے میں شامل ہوئے۔
Oslo Ukraine Talks میں کیا طے پایا اور وٹکوف کا اگلا قدم
پریس کانفرنس کا سب سے اہم اعلان یہ تھا۔ امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف بدھ 21 اکتوبر کو روس روانہ ہوں گے۔ وہ سینٹ پیٹرزبرگ میں روسی قیادت سے ملاقات کر کے اوسلو کی تجاویز پیش کریں گے۔ اسٹورے کے بقول اس ملاقات سے ”قیادت کی سطح پر ملاقات کی راہ ہموار“ ہو سکتی ہے۔ ایک امریکی عہدیدار نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا۔ ان کے بقول مذاکرات میں ”بامعنی پیش رفت“ ہوئی۔ فریقین روس کے ساتھ مربوط رابطے کے ایک جامع منصوبے پر متفق ہوئے۔
تاہم منزل کے حوالے سے خبروں میں معمولی اختلاف بھی سامنے آیا۔ ناروے کے وزیر اعظم نے سینٹ پیٹرزبرگ کا ذکر کیا۔ بعض امریکی ذرائع نے صدر پیوٹن سے براہ راست ملاقات کی بات کہی۔ کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا کہ روس امریکی ثالثی کو ”بہت اہمیت“ دیتا ہے۔ انہیں امید ہے کہ ملاقات جلد منعقد ہوگی۔ تاہم وائٹ ہاؤس نے سفر کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔
مذاکرات کے پس منظر میں امریکہ اور یوکرین کے تعلقات میں حالیہ کشیدگی بھی ہے۔ صدر ٹرمپ متعدد بار کہہ چکے ہیں کہ یوکرین کو ”جنگ ختم کرنے کی خواہش“ دکھانی چاہیے۔ نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق وہ کیئف پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ڈونباس میں علاقائی رعایتوں پر مبنی معاہدہ قبول کیا جائے۔ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کاجا کلاس نے اسٹراسبرگ میں کہا۔ ان کے بقول امریکی مذاکرات کار ڈیڑھ سال سے یوکرین پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ یوکرین ”پیوٹن کی شرائط پر ہتھیار ڈال دے“۔ ان کا کہنا ہے کہ یورپ کی حمایت ہی وجہ ہے کہ کیئف ابھی تک قائم ہے۔
انٹیلیجنس تنازع اور میزائل دفاع کا معاملہ
ملاقات سے قبل امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ممبئی میں بات کی۔ انہوں نے ان الزامات کو ”شرمناک اور بے بنیاد“ قرار دیتے ہوئے مسترد کیا۔ یہ الزام تھا کہ واشنگٹن یوکرین سے انٹیلیجنس روک رہا ہے۔ زیلنسکی نے بتایا کہ روبیو سے ان کی ”تعمیری گفتگو“ ہوئی۔ اس میں میزائل شکن نظام اور ابتدائی انتباہی نظام پر بات ہوئی۔ اسٹار لنک نیٹ ورک پر بھی گفتگو ہوئی۔ امریکی ابتدائی انتباہی نظام اب دوبارہ کام کر رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق زیلنسکی نے یہ بھی کہا۔ یوکرین نے روسی تیل تنصیبات پر حملے باہمی بنیاد پر روکنے کی امریکی تجویز کی حمایت کی تھی۔ مگر روس نے اس سے انکار کر دیا۔
ان مذاکرات (Oslo Ukraine talks) نے سفارتی عمل کو دوبارہ متحرک کر دیا ہے۔ مگر علاقے، سیکیورٹی ضمانتوں اور پابندیوں جیسے بنیادی اختلافات اپنی جگہ قائم ہیں۔ اب سب کی نظریں وٹکوف کی روس یاترا پر ہیں۔ اگر ماسکو تجاویز کو سنجیدگی سے لے تو سہ فریقی مذاکرات کی راہ کھل سکتی ہے۔ ورنہ یہ کوشش بھی ماضی کی ناکام کوششوں کی طرح تاریخ کا حصہ بن جائے گی۔
مزید پڑھیں: فرانس: پیرس میں کرفیو اور احتجاج | ماخذ: ناروے وزیر اعظم کے دفتر کا بیان
مظفرآباد: 23.1°C، صاف | روزنامہ پرل ویو