پیرس میں احتجاج کے دوران دھواں — france protests october 2026 macron 5

فرانس میں آگ و خون! دو ہزار سے زائد گرفتار، سیکڑوں اہلکار زخمی — میکرون کا خطاب

پیرس: فرانس کئی برسوں کے بدترین فسادات کی لپیٹ میں ہے۔ اس کے علاوہ مہنگائی کے خلاف 17 اکتوبر کے ملک گیر مظاہرے کئی شہروں میں پرتشدد ہو گئے۔ france protests october 2026 macron کے حوالے سے اب تک دو ہزار سے زائد گرفتاریاں ہو چکی ہیں۔

فرانسیسی وزارت داخلہ کے مطابق مظاہروں میں تقریباً ساڑھے پانچ لاکھ افراد نے شرکت کی۔ دوسری جانب منتظمین کا دعویٰ ہے کہ تعداد آٹھ لاکھ تک تھی۔ صرف پیرس میں ایک لاکھ دس ہزار افراد سڑکوں پر نکلے۔

پیرس میں 855 گرفتاریاں ہوئیں جو ایک ریکارڈ ہے۔ اس کے علاوہ ملک بھر میں گرفتار افراد کی تعداد دو ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔ مزید برآں چھ سو سے زائد پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

پیرس میں ایک مظاہرین دل کا دورہ پڑنے سے ہلاک ہو گیا۔ تاہم بعض ذرائع کے مطابق نانٹس میں 22 سالہ ایک اہلکار بھی گاڑی کی ٹکر سے ہلاک ہوا۔ واضح رہے کہ ہلاکتوں کی تعداد کے حوالے سے ذرائع میں اختلاف ہے۔

France Protests October 2026 Macron — تشدد کیسے پھیلا؟

مظاہرے اسکولوں کی خراب صورتحال کے خلاف طلبہ کی تحریک سے شروع ہوئے تھے۔ نتیجتاً ستمبر کے وسط سے جاری اسکولوں کی ناکہ بندی مہنگائی اور عوامی خدمات کے خلاف ملک گیر احتجاج میں بدل گئی۔

پرتگالی شہر لیموجز کا انیسویں صدی کا تاریخی ٹاؤن ہال آگ لگنے سے جزوی طور پر تباہ ہو گیا۔ اس کے علاوہ پیرس، مارسیلز، لیون اور بورڈو میں دکانوں کو لوٹا گیا۔ سرکاری عمارتوں پر حملے کیے گئے۔

اتوار کو پلیس ڈی لا ریپبلک پر تازہ جھڑپیں ہوئیں۔ نتیجتاً پولیس نے آنسو گیس استعمال کی۔ دوسری جانب مظاہرین نے موٹر سائیکلوں کو آگ لگا دی۔

میکرون کا قوم سے خطاب

صدر ایمانویل میکرون نے اتوار کی شام آٹھ بجے قوم سے خطاب کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے نوجوانوں کی گہری بے چینی کا اعتراف کیا۔ میکرون کا کہنا تھا کہ لوٹ مار کرنے والوں کو نقصان کی قیمت چکانی ہوگی۔

وزیراعظم سیباستین لیکورنو نے خبردار کیا کہ حراست میں لیے گئے افراد کو لازمی سزا ملے گی۔ مزید برآں انہوں نے پیرس، لیون اور مارسیلز کے میئرز سے ملاقات کا اعلان بھی کیا۔

سیاسی مبصرین کے مطابق 2027 کے صدارتی انتخابات سے قبل یہ بدامنی حکومت کے لیے بڑا چیلنج ہے۔ بالآخر انتہائی دائیں بازو کی رہنما میرین لی پین اور بائیں بازو کے ژاں لک میلانشون دونوں نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

آبنائے ہرمز کی صورتحال پر ہماری رپورٹ یہاں پڑھیں۔

مزید تفصیل رائٹرز/سی این این کی جامع رپورٹ میں دیکھیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں