Dengue KP surge: ڈینگی پھیلانے والا ایڈیز ایجپٹی مچھر 3

خیبرپختونخوا میں ڈینگی بے قابو، چوبیس گھنٹوں میں 99 نئے مریض سامنے

خیبرپختونخوا میں Dengue KP surge خطرناک صورت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ صوبے میں چوبیس گھنٹوں کے دوران 99 نئے ڈینگی کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ یہ رواں برس ایک ہی دن میں سامنے آنے والی سب سے بڑی تعداد ہے۔ انٹیگریٹڈ ڈیزیز سرویلنس اینڈ ریسپانس سسٹم نے یہ اعدادوشمار جاری کیے ہیں۔ سسٹم کے مطابق رواں سال ڈینگی کے مریضوں کی مجموعی تعداد 4091 تک پہنچ گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس وقت صوبے میں ڈینگی کے 144 فعال کیسز ہیں۔ جبکہ 3946 مریض صحت یاب ہو چکے ہیں۔ اکتوبر کا مہینہ صوبے کے لیے خاصا مشکل ثابت ہو رہا ہے۔ کیسز میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال پر قابو پانے کے لیے اقدامات تیز کر دیے گئے ہیں۔

ضلعی سطح پر کوہاٹ سب سے زیادہ متاثر ہے۔ وہاں اب تک 2567 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔ صرف یکم اکتوبر سے اب تک 80 نئے مریض سامنے آئے ہیں۔ پشاور میں 566، بنوں میں 192، خیبر میں 120 اور ہری پور میں 112 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ بنوں میں یکم اکتوبر سے 24 جبکہ پشاور میں 18 نئے کیسز سامنے آئے۔ کوہاٹ میں مریضوں کی بڑھتی تعداد سے اسپتالوں پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔

Dengue KP surge کی زد میں کوہاٹ سب سے آگے کیوں

کوہاٹ کو صوبے میں ڈینگی کا سب سے بڑا مرکز قرار دیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق ٹھہرے ہوئے صاف پانی میں مچھروں کی افزائش اس وبا کے پھیلاؤ کی بنیادی وجہ ہے۔ گھروں کی چھتوں پر رکھے برتن اور کولروں کی ٹرے مچھروں کی افزائش گاہیں ہیں۔ پھولوں کے گملے اور پرانے ٹائر بھی ان کی پسندیدہ جگہیں ہیں۔ محکمہ صحت کی ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں اسپرے اور آگاہی مہم چلا رہی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ شہریوں کے تعاون کے بغیر اس وبا پر قابو پانا مشکل ہے۔

ڈیلی میگزین کی رپورٹ کے مطابق ٹانک کا ایک رہائشی ڈینگی کے باعث انتقال کر گیا۔ وہ ڈیرہ اسماعیل خان میں انتقال کر گیا۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ آنے والے ہفتے انتہائی اہم ہیں۔ موسم مچھروں کی افزائش کے لیے سازگار ہے، جس سے کیسز میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔

اسلام آباد میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کی صورتحال

وفاقی دارالحکومت میں رواں سال جنوری سے اب تک ڈینگی کے 42 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ ان میں 32 دیہی اور 10 شہری علاقوں سے سامنے آئے۔ ضلعی محکمہ صحت کے مطابق اکتوبر میں انسداد ڈینگی ٹیموں نے 382452 نگرانی اور کنٹرول کی سرگرمیاں انجام دیں۔ ان کارروائیوں کے دوران 7669 مقامات سے مچھروں کے لاروا کو تلف کیا گیا۔ ٹیموں نے 10084 مقامات کا دورہ کیا۔ انڈور سرویلنس ٹیموں نے 72305 گھروں کا معائنہ کیا۔

اس Dengue KP surge پر قابو پانے کے لیے طبی ماہرین کا مشورہ سامنے آیا ہے۔ تیز بخار، آنکھوں کے پیچھے درد اور جسم میں شدید درد کی صورت میں فوری ٹیسٹ کرایا جائے۔ گھروں میں کھڑا پانی ہفتے میں ایک بار ضرور صاف کیا جائے تاکہ مچھروں کی افزائش روکی جا سکے۔

مزید پڑھیے: قومی ادارہ صحت کی ڈینگی رپورٹ۔ تفصیلات آئی اے این ایس پر دیکھیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں