مظفرآباد — راولاکوٹ میں پیش آنے والے rawalakot attack کے بعد آزاد کشمیر حکومت نے سخت موقف اختیار کر لیا ہے۔ کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کے خلاف کارروائی کا عندیہ دے دیا گیا ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق حکام کا یہ کہنا ہے۔ حملے کے بعد حکومت کے پاس “کارروائی کے سوا کوئی چارہ” نہیں بچا۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق راولاکوٹ میں مسلح افراد کے حملے میں رینجرز کا ایک اہلکار شہید جبکہ ایک زخمی ہوا۔ پاک سوچ میڈیا گروپ کی رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ متیال میرہ بس ٹرمینل کے قریب پیش آیا۔ یہ واقعہ منگل کی صبح پیش آیا تھا۔ جہاں پولیس کے جواب پر پہنچنے پر اسے بھی نشانہ بنایا گیا۔
rawalakot attack پر پولیس کا موقف
راولاکوٹ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایس ایس پی خاور علی شوکت نے بتایا۔ حملے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تقریباً 15 اہلکار زخمی ہوئے۔ متعدد مشتبہ افراد گرفتار کیے گئے۔ ان کے قبضے سے اسلحہ بھی برآمد ہوا، جس میں ایک خودکار ہتھیار بھی شامل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کالعدم تنظیم کے “پوشیدہ ایجنڈے” کو بے نقاب کر دیا گیا ہے۔
حکام نے خبردار کیا ہے۔ احتجاج کے دوران طلبہ کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ پاک خبر کی رپورٹ کے مطابق حکومت نے ایک کروڑ روپے کے انعام کا اعلان کیا ہے۔ یہ رقم کالعدم جے اے اے سی کے چار مطلوب رہنماؤں کی گرفتاری میں مدد پر دی جائے گی۔ مزید تفصیل منٹ مرر کی رپورٹ میں دیکھی جا سکتی ہے۔
وفاقی حکومت کی مکمل حمایت کا اعلان
وفاقی وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے۔ آزاد کشمیر انتظامیہ کو وفاقی حکومت کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ امن کی بحالی کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
واضح رہے کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو رواں برس کالعدم قرار دیا جا چکا ہے۔ حکومت کا موقف ہے کہ پُرامن احتجاج ہر شہری کا حق ہے۔ مگر مسلح کارروائیوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ آزاد کشمیر سے متعلق گزشتہ خبر یہاں پڑھیں۔ rawalakot attack کے بعد کی صورتحال پر ہماری نظر ہے۔ کسی بھی نئی پیش رفت سے قارئین کو آگاہ کیا جائے گا۔
مظفرآباد: 30°C، دھوپ | روزنامہ پرل ویو