مظفرآباد شہر کا فضائی منظر — ai geo navigators کا علاقائی دفتر یہاں قائم ہوا 1

مظفرآباد میں اے آئی جیو نیویگیٹرز کا علاقائی دفتر قائم، جامعہ کشمیر سے معاہدہ

مظفرآباد: آزاد کشمیر میں مصنوعی ذہانت پر مبنی جیو سائنس تحقیق کے نئے دور کا آغاز ہو گیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اے آئی جیو نیویگیٹرز نے مظفرآباد میں اپنا علاقائی دفتر قائم کر لیا ہے۔ ai geo navigators کے اس اقدام سے خطے میں جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی کی راہ ہموار ہو گی۔

رپورٹس کے مطابق علاقائی دفتر جامعہ آزاد جموں و کشمیر کے کنگ عبداللہ کیمپس میں انسٹیٹیوٹ آف جیالوجی کے احاطے میں قائم کیا گیا ہے۔ افتتاحی تقریب میں جامعہ کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ناصر جمال خٹک مہمان خصوصی تھے۔

اس موقع پر اے آئی جیو نیویگیٹرز کے چیف ایگزیکٹو آسم جاوید اور جامعہ کی او آر آئی سی ڈائریکٹر ڈاکٹر ریحانہ کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے۔ معاہدے کا مقصد اے آئی سے چلنے والی جیو سائنس تحقیق کو فروغ دینا ہے۔

رپورٹس کے مطابق معاہدے کے تحت جی آئی ایس میپنگ، لینڈ سلائیڈ کی تشخیص، انجینئرنگ جیالوجی اور قدرتی آفات کے خطرات میں کمی جیسے شعبوں میں مشترکہ تحقیق کی جائے گی۔ ماحولیاتی جائزوں میں بھی جدید ٹیکنالوجی استعمال ہو گی۔

AI Geo Navigators — طلبہ کے لیے مواقع

مفاہمتی یادداشت میں تدریسی معاونت، مہمان لیکچرز، ورکشاپس اور مشترکہ تحقیقی منصوبے شامل ہیں۔ طلبہ کو انٹرن شپ اور روزگار کے مواقع بھی میسر آئیں گے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ai geo navigators کی ٹیکنالوجی سے آزاد کشمیر جیسے پہاڑی خطے میں لینڈ سلائیڈنگ جیسے چیلنجز سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔ اے آئی پر مبنی جیو اسپیشل ٹیکنالوجی سے ان خطرات کی بروقت نشاندہی ممکن ہو سکے گی۔

جامعہ کے اساتذہ نے اس شراکت داری کو خوش آئند قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مقامی تعلیمی مہارت اور جدید ٹیکنالوجی کے امتزاج سے عملی منصوبوں کو فروغ ملے گا۔

خطے کے لیے اہمیت

آزاد کشمیر میں گزشتہ برسوں کے دوران قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے جدید نظام کی ضرورت محسوس کی جا رہی تھی۔ یہ دفتر اس خلا کو پر کرنے کی سمت ایک اہم قدم ہے۔

رپورٹس کے مطابق علاقائی دفتر مستقبل میں مزید تحقیقی منصوبوں کا مرکز بنے گا۔ مقامی نوجوانوں کو ٹیکنالوجی کے شعبے میں آگے بڑھنے کے نئے راستے ملیں گے۔

مظفرآباد کی تازہ خبر یہاں پڑھیں: مظفرآباد میں موبائل انٹرنیٹ کی بحالی۔

مزید تفصیل سی ڈبلیو پاکستان کی رپورٹ میں ملاحظہ کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں