امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے trump iran war سے متعلق ایک بڑا بیان دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکہ “ابھی” ایران سے نکل سکتا ہے۔ تاہم وہ ایک دیرپا حل چاہتے ہیں۔ جنوبی کیرولائنا کے شہر پینڈلٹن میں انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا۔ “یہ بہت جلد ختم ہو جائے گا۔” انہوں نے مزید کہا کہ ہم ابھی نکل سکتے ہیں۔ لیکن وہ یہ یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ یہ طویل عرصے تک قائم رہے۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکہ نے ایران کو عسکری اور مالی دونوں محاذوں پر شکست دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کو “کبھی جوہری ہتھیار نہیں ملے گا”۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے جوہری پروگرام کو روکنا “ہمارے عظیم ترین کارناموں میں سے ایک” ہے۔
trump iran war: ‘ٹرمپ اسٹریٹ’ کا تنازع
اپنے خطاب میں ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کی امریکی ناکہ بندی کا ذکر کرتے ہوئے اسے “ٹرمپ اسٹریٹ” قرار دیا۔ انہوں نے کہا: “ہم نے خلیج میکسیکو کا نام بدل دیا، تو آبنائے ہرمز کا نام کیوں نہیں بدل سکتے؟” یہ بیان ایران کے لیے ایک اور اشتعال انگیز پیغام سمجھا جا رہا ہے۔
دوسری جانب نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق امریکی اور اسرائیلی افواج نے منصوبے تیار کر لیے ہیں۔ یہ منصوبے وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر نئے حملوں سے متعلق ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے ان عسکری منصوبوں پر تبصرے سے انکار کیا۔ تفصیل نیوز بیپ کی رپورٹ میں دیکھی جا سکتی ہے۔
ایران کی جوابی وارننگ
ایران نے بھی trump iran war پر سخت جواب دیا ہے۔ فارس نیوز کے حوالے سے ایک سینئر ایرانی سیکیورٹی عہدیدار نے خبردار کیا ہے۔ ان کے مطابق نئے حملوں میں حکام کی ٹارگٹ کلنگ اور شہریوں کا قتل عام شامل ہو سکتا ہے۔ ایسے میں امریکہ کے سیاسی اہداف اور جنگ میں شریک ممالک کا انفراسٹرکچر ایران کے لیے جائز ہدف ہوگا۔
ایرانی قیادت مذاکرات کے لیے اپنی شرائط دہرا چکی ہے۔ ان شرائط میں پابندیوں کا خاتمہ شامل ہے۔ ناکہ بندی اور دھمکیاں بھی بند ہونی چاہئیں۔ یوکرین امن مذاکرات کی تازہ صورتحال یہاں پڑھیں۔ امریکہ اسرائیل جنگ فروری 2026 میں شروع ہوئی تھی۔ جون میں پاکستانی و قطری ثالثی سے طے پانے والا عبوری معاہدہ بعد میں ٹوٹ گیا تھا۔
مظفرآباد: 30°C، دھوپ | روزنامہ پرل ویو