اسٹاک ہوم: رائل سویڈش اکیڈمی آف سائنسز نے نوبل انعام معاشیات 2026 کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ باوقار بین الاقوامی اعزاز اس سال تین ممتاز ماہرینِ معاشیات کو دیا گیا ہے۔ انہوں نے جدت اور طویل مدتی اقتصادی ترقی پر انقلابی تحقیق پیش کی۔ معاشی اداروں کے کردار پر بھی ان کی تحقیق نمایاں ہے۔ اکیڈمی کے مطابق پائیدار ترقی کے لیے صرف سرمائے کی فراہمی کافی نہیں۔ جدت طرازی اور مضبوط ادارے اس میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔
اعلامیے کے مطابق انعام کی رقم ایک کروڑ دس لاکھ سویڈش کرونر ہے۔ یہ رقم تینوں فاتحین میں برابر تقسیم کی جائے گی۔ نوبل انعامات کی تقریب روایت کے مطابق 10 دسمبر کو ہوگی۔ یہ تقریب اسٹاک ہوم میں منعقد ہوگی۔ وہاں فاتحین کو گولڈ میڈل اور اسناد پیش کی جائیں گی۔
نوبل انعام معاشیات 2026 کی عالمی اہمیت
ماہرین کے مطابق اس سال کا انتخاب اس لیے بھی اہم ہے۔ دنیا بھر کی معیشتیں اس وقت کئی چیلنجز سے نبرد آزما ہیں۔ ان میں سست روی، مہنگائی اور تجارتی تناؤ شامل ہیں۔ فاتحین کی تحقیق ایک اہم نکتہ بتاتی ہے۔ جو ممالک تحقیق و جدت پر سرمایہ کاری کرتے ہیں وہ بہتر ترقی حاصل کرتے ہیں۔ شفاف ادارے قائم کرنے والے ممالک بھی طویل مدت میں کامیاب رہتے ہیں۔
یاد رہے کہ نوبل انعام برائے معاشیات کا باضابطہ نام طویل ہے۔ اسے سویریز رکس بینک انعام برائے یادِ الفریڈ نوبل کہا جاتا ہے۔ یہ انعام 1968 میں سویڈن کے مرکزی بینک نے قائم کیا تھا۔ پہلی بار یہ 1969 میں دیا گیا۔ اگرچہ یہ اصل نوبل وصیت کا حصہ نہیں تھا۔ مگر آج یہ معاشیات کا سب سے بڑا عالمی اعزاز سمجھا جاتا ہے۔
پاکستان سمیت ترقی پذیر ممالک کے لیے اس تحقیق کی خاص اہمیت ہے۔ ماہرینِ معاشیات کا کہنا ہے کہ پاکستان کو جدت پر توجہ دینی چاہیے۔ تعلیم اور ادارہ جاتی اصلاحات بھی ضروری ہیں۔ ان سے پائیدار ترقی کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ حکومت کے جاری اصلاحاتی پروگرام اسی سمت میں مثبت قدم ہیں۔
اکیڈمی کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ فاتحین کی تحقیق نے گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ یہ اثرات معاشی پالیسی سازی پر نمایاں ہیں۔ متعدد ممالک نے ان کے نظریات اپنی حکمت عملیوں میں شامل کیے ہیں۔ توقع ہے کہ اس اعزاز کے بعد مزید تحقیق کو فروغ ملے گا۔ عالمی سطح پر ان موضوعات پر مباحثہ بھی بڑھے گا۔
مزید پڑھیں: ڈالر کی قیمت آج — 13 اکتوبر 2026 کے تازہ ترین انٹربینک و اوپن مارکیٹ ریٹس
مظفرآباد: 24.9°C، دھوپ | روزنامہ پرل ویو