ہائیکورٹ کی عمارت — KP governor rule کے خلاف درخواستوں پر پشاور ہائیکورٹ نے نوٹس جاری کیے 16

خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے خلاف درخواستیں — پشاور ہائیکورٹ نے نوٹس جاری کیے، سماعت 10 نومبر تک ملتوی

پشاور ہائیکورٹ نے خیبر پختونخوا میں KP governor rule اور ایمرجنسی کے خلاف دائر درخواستوں پر وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔ عدالت نے کیس کی سماعت 10 نومبر تک ملتوی کر دی ہے۔

پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے 14 اکتوبر کو پشاور ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ وفاقی حکومت کے 11 اکتوبر کے فیصلے کو غیر آئینی قرار دیا جائے۔

وفاقی حکومت نے 11 اکتوبر کو آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کیا تھا۔ بعد میں پارلیمنٹ نے 214 کے مقابلے میں 56 ووٹوں سے اس اقدام کی منظوری دی تھی۔

KP governor rule کے خلاف درخواست میں کیا موقف اختیار کیا گیا؟

درخواست گزاروں کے وکیل بیرسٹر سمیر کھوسہ نے عدالت کو بتایا کہ ایمرجنسی کے نفاذ کے لیے صوبائی اسمبلی کی قرارداد لازمی تھی۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی اسمبلی سے کوئی منظوری حاصل نہیں کی گئی۔

وکیل نے آئین کے آرٹیکل 232 کی شق ایک کے proviso کا حوالہ دیا۔ اس شق کے مطابق صوبائی اسمبلی کی منظوری ضروری ہے۔ وکیل نے کہا کہ یہ اقدام صوبائی اسمبلی کی منظوری کے بغیر اٹھایا گیا۔

پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے بھی عدالت میں دلائل دیے۔ انہوں نے گورنر راج اور ایمرجنسی کو صوبائی خودمختاری پر حملہ قرار دیا۔

گورنر راج کے بعد صوبے میں کیا صورتحال ہے؟

وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی گورنر راج کے نفاذ کے بعد سے غیر فعال ہو گئے ہیں۔ وہ 11 اکتوبر سے نظر نہیں آئے ہیں۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعلیٰ، کابینہ اور ایڈووکیٹ جنرل کو کام سے روک دیا گیا ہے۔

بیرسٹر گوہر نے عدالت کو بتایا کہ پی ٹی آئی سے وابستہ 12 ارکان قومی اسمبلی اور 14 ارکان صوبائی اسمبلی کو اٹھا لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ارکان کے گھروں پر چھاپے مارے جا رہے ہیں اور انہیں ہراساں کیا جا رہا ہے۔

وفاقی حکومت نے گورنر راج کے نفاذ کے بعد 11 رکنی ٹیکنوکریٹ کابینہ تشکیل دی ہے۔ بیرسٹر گوہر نے سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ یہ اقدام پہلے دن سے غیر آئینی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو کچھ ہوا ہے وہ آئین کے خلاف ہے۔

درخواست گزاروں نے عدالت سے بڑا بینچ بنانے اور جلد سماعت کی استدعا کی ہے۔ عدالت نے 10 نومبر کی تاریخ دی ہے۔ درخواست گزاروں کو امید ہے کہ عدالت جلد فیصلہ کرے گی۔ ڈان کے مطابق عدالت نے کہا کہ نوٹسز کے بعد حکم جاری کیا جائے گا۔ ملک کی دیگر اہم خبروں کے لیے پٹرول کی قیمتوں کی خبر یہاں پڑھیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں