ایل پی جی گیس سلنڈر — lpg price کے بحران کے دوران شمالی علاقوں میں سلنڈر 10000 روپے سے مہنگا 3

ایل پی جی کا بحران بے قابو: شمالی علاقوں میں سلنڈر 10 ہزار روپے سے مہنگا

ملک میں lpg price کا بحران سنگین صورت اختیار کر گیا ہے۔ شمالی خیبرپختونخوا کے علاقوں میں ایل پی جی 750 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہی ہے۔ یہ اوگرا کے نوٹیفائیڈ اکتوبر نرخ 279.34 روپے فی کلو سے تقریباً 2.7 گنا زائد ہے۔ ان علاقوں میں گھریلو سلنڈر (11.8 کلو) کی قیمت 10,000 روپے سے تجاوز کر گئی ہے۔ پشاور میں دکاندار تقریباً 600 روپے فی کلو وصول کر رہے ہیں۔

اوگرا کے 30 ستمبر کے نوٹیفکیشن کے مطابق 11.8 کلو کے سلنڈر کی سرکاری قیمت 3,296.23 روپے مقرر ہے۔ یہ نوٹیفکیشن یکم اکتوبر سے نافذ ہے۔ یہ حد جولائی سے مسلسل بڑھ رہی ہے۔ جولائی میں قیمت 2,848.91 روپے سے اکتوبر میں 3,296.23 روپے ہو گئی ہے۔ یعنی تین ماہ میں 447.32 روپے کا اضافہ ہوا ہے۔ مگر بازار میں وصول کی جانے والی قیمت سرکاری نرخ سے کہیں آگے نکل چکی ہے۔

lpg price میں اچانک اضافے کی وجہ کیا بنی؟

ایل پی جی انڈسٹری کے مطابق 17 اور 18 اکتوبر کے اختتام ہفتہ پر قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ دکان کی قیمت میں تقریباً 100 روپے فی کلو کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس کی وجہ ایران کے ساتھ سرحدی گزرگاہ (رہیم داد/تفتان) کی بندش بنی۔ پاکستان نے 20 اکتوبر کو گزرگاہ دوبارہ کھولنے کا اعلان کیا تھا۔ مگر 23 اکتوبر کی رپورٹس کے مطابق قلت کا سلسلہ ابھی تھما نہیں۔ پاکستان کی ایل پی جی سپلائی کا تقریباً 67 فیصد درآمدات پر منحصر ہے۔ اس لیے سرحدی رکاوٹ کا اثر فوری پڑتا ہے۔

حکومت سردیوں سے قبل ذخیرہ اندوزی روکنے کے لیے اقدامات پر غور کر رہی ہے۔ ماہانہ قیمتوں کے بجائے روزانہ نرخوں کے نظام کو زیر غور لایا جا رہا ہے۔ دوسری جانب پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچوئلز فورم کے میاں زاہد حسین نے خبردار کیا ہے۔ ان کے مطابق مارکیٹ میں 500 سے 600 روپے فی کلو کے نرخ نوٹیفائیڈ قیمت کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ اوگرا کو اسٹاک رپورٹنگ نافذ کر کے ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے۔

صارفین اور صنعت کا ردعمل

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما وسیم سعید نے گیس کی کٹوتیوں پر شدید تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایل پی جی سرکاری نرخ سے دوگنی قیمت پر بک رہی ہے۔ ایسے میں عام آدمی کہاں جائے۔ ان کے مطابق اکتوبر کے بجلی بلوں میں 1.11 روپے فی یونٹ فیول ایڈجسٹمنٹ بھی شامل ہے۔ ایل این جی کارگو میں تاخیر کے بعد لاہور میں رات کو بجلی کی بندش بھی ہوئی۔ گیس کا گردشی قرضہ 3.6 ٹریلین روپے تک پہنچ چکا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر سال اکتوبر سے فروری تک یہی بحران دہرایا جاتا ہے۔ سردیوں میں طلب بڑھتی ہے اور سپلائی گھٹتی ہے۔ نتیجتاً قیمتیں آسمان کو چھوتی ہیں۔ پٹرول کی آج کی قیمتوں کی تفصیل یہاں پڑھیں۔ جب تک موسم سرما کا باقاعدہ سپلائی پلان جاری نہیں ہوتا۔ صارفین کو بڑھتی ہوئی lpg price کا سامنا رہے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں