اسلام آباد: پاکستان کی آئی ٹی برآمدات نے نیا سنگ میل عبور کر لیا ہے۔ ستمبر 2026 میں آئی ٹی برآمدات 435 ملین ڈالر رہیں جو ملکی تاریخ کی دوسری بڑی ماہانہ رقم ہے۔ pakistan it exports کی یہ کارکردگی ڈیجیٹل معیشت کے روشن مستقبل کی نوید ہے۔
مشیر خزانہ خرم شہزاد نے 16 اکتوبر کو سوشل میڈیا پر ان اعداد کا اعلان کیا۔ اس سے قبل سب سے زیادہ 437 ملین ڈالر کی برآمدات دسمبر 2025 میں ریکارڈ کی گئی تھیں۔
سالانہ بنیادوں پر ستمبر میں 18.21 فیصد اضافہ ہوا۔ گزشتہ سال ستمبر میں برآمدات 368 ملین ڈالر تھیں۔ ماہانہ بنیادوں پر اگست کے 394 ملین ڈالر کے مقابلے میں 10.41 فیصد بہتری آئی۔
مالی سال 27 کی پہلی سہ ماہی (جولائی تا ستمبر) میں آئی ٹی اور ٹیلی کام برآمدات 1.246 ارب ڈالر رہیں۔ یہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے 1.059 ارب ڈالر سے 17.7 فیصد زیادہ ہے۔
Pakistan IT Exports — ریکارڈ کی وجوہات
اسٹیٹ بینک کے اعداد کے مطابق آئی ٹی اور ٹیلی کام خدمات اب پاکستان کی کل سروسز برآمدات کا تقریباً 46 فیصد ہیں۔ پہلی سہ ماہی میں آئی سی ٹی تجارتی سرپلس 1.04 ارب ڈالر رہا جو سالانہ 14.98 فیصد زیادہ ہے۔
مالی سال 26 میں آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر کی ریکارڈ سطح پر پہنچیں جو 20.6 فیصد سالانہ اضافہ ہے۔ اڑان پاکستان پروگرام کے تحت مالی سال 29 تک 10 ارب ڈالر کا ہدف مقرر ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ pakistan it exports میں اس کامیابی کی بنیادی وجوہات فری لانسرز کی بڑھتی تعداد، سافٹ ویئر ہاؤسز کی توسیع اور حکومت کی ٹیکس مراعات ہیں۔ نوجوانوں کا رجحان ڈیجیٹل مہارتوں کی طرف تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
آگے کا راستہ
10 ارب ڈالر کے ہدف کے لیے تقریباً 27.8 فیصد سالانہ نمو درکار ہو گی۔ اس کے لیے انٹرنیٹ کے بنیادی ڈھانچے میں بہتری اور بین الاقوامی ادائیگیوں کے نظام کو مزید آسان بنانا ہو گا۔
آئی ٹی انڈسٹری کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ اگر پالیسیوں میں تسلسل رہا تو پاکستان خطے کا ڈیجیٹل مرکز بن سکتا ہے۔ ہزاروں نوجوان پہلے ہی عالمی مارکیٹ میں اپنی خدمات فروخت کر رہے ہیں۔
ڈیجیٹل پاکستان کی مزید خبر یہاں پڑھیں: پاکستان کا ڈیجیٹل اور اے آئی معاہدہ۔
مزید تفصیل بلوم پاکستان کی رپورٹ میں ملاحظہ کریں۔
مظفرآباد: 28.3°C، دھوپ | روزنامہ پرل ویو