پیرس: فرانس میں ہفتے کے روز ہونے والے پرتشدد مظاہروں کے بعد حکومت نے کئی شہروں میں کرفیو نافذ کر دیا ہے۔ پیر کی شام سے منگل کی صبح تک پیرس کے متعدد علاقوں میں نقل و حرکت پر پابندی رہی۔ france curfew paris کے اس فیصلے کا مقصد امن و امان بحال کرنا ہے۔
رپورٹس کے مطابق دارالحکومت میں رات 11 بجے سے صبح 6 بجے تک پلیس ڈی لا ریپبلک اور لے ہالز کے گرد کرفیو نافذ رہا۔ شام 8 بجے کے بعد مظاہروں پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی تھی۔
لیل، دوئے، واٹنیز اور ڈینین میں نابالغوں کے لیے رات 8 سے صبح 6 بجے تک کرفیو لگایا گیا۔ لیون کے پریسک آئل علاقے اور نیس کے شہر کے مرکزی حصے میں بھی رات 9 سے صبح 6 بجے تک پابندیاں رہیں۔ مارسیلز میں مظاہروں پر مکمل پابندی عائد ہے۔
وزیر داخلہ لارنٹ نونیز نے اعتراف کیا کہ پولیس صورتحال پر قابو کھو بیٹھی تھی۔ انہوں نے استعفیٰ پیش کیا جسے صدر میکرون نے مسترد کر دیا۔ وزیراعظم سیباستین لیکورنو نے نظم بحال کرنے کا عزم ظاہر کیا۔
France Curfew Paris — احتجاج کیوں ہوا؟
ہفتے کو مہنگائی کے خلاف تقریباً 5 لاکھ 50 ہزار افراد نے 110 مقامات پر مظاہرے کیے۔ صرف پیرس میں ایک لاکھ سے زائد افراد سڑکوں پر نکلے۔ مظاہرے بعد ازاں تشدد اور لوٹ مار میں بدل گئے۔
خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق 2 ہزار 400 سے زائد افراد کو حراست میں لیا گیا۔ تقریباً 3 ہزار کاروباری مراکز کو نقصان پہنچا یا لوٹا گیا۔ سیکیورٹی اہلکاروں سمیت متعدد افراد زخمی ہوئے۔
لوو میوزیم پیر کو طلبہ کے احتجاج کے باعث بند رہا۔ امریکی سفارتخانے نے اپنے شہریوں کو مظاہروں سے دور رہنے کی ہدایت جاری کی۔ منتظمین نے اگلے ہفتے مزید مظاہروں کا اعلان کیا ہے۔
بے چینی پھیل رہی ہے
رپورٹس کے مطابق france curfew paris کے بعد احتجاجی لہر اٹلی، اسپین، بیلجیئم اور پرتگال تک پھیل رہی ہے۔ وزیراعظم نے ایمرجنسی کے نفاذ کے امکان کو مسترد نہیں کیا۔
پراسیکیوٹرز کو ہدایت کی گئی ہے کہ واقعات کو منظم جرائم کے مقدمات کے طور پر نمٹا جائے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ پرامن احتجاج کا حق محفوظ ہے مگر تشدد برداشت نہیں کیا جائے گا۔
فرانس کی گزشتہ صورتحال یہاں پڑھیں: فرانس میں احتجاجی مظاہرے۔
مزید تفصیل پارٹیکل نیوز کی رپورٹ میں ملاحظہ کریں۔
مظفرآباد: 28.3°C، دھوپ | روزنامہ پرل ویو