ایران کی نطنز جوہری تنصیب کا داخلی دروازہ — iran strike plans میں جوہری تنصیبات نشانے پر ہیں 2

نیویارک ٹائمز کا انکشاف: مڈ ٹرم کے بعد ایران پر نئے امریکی–اسرائیلی حملوں کی تیاری

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے انکشاف کیا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی افواج نے iran strike plans کو حتمی شکل دے دی ہے۔ ان منصوبوں کے تحت 3 نومبر کے امریکی مڈ ٹرم انتخابات کے بعد ایران پر نئے حملوں کی “مختصر مگر شدید” مہم چلائی جا سکتی ہے۔ امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کے مطابق یہ مہم تقریباً تین روز جاری رہے گی۔ اس میں ایران کی جوہری تنصیبات (بشمول پک ایکس ماؤنٹین)، توانائی کے انفراسٹرکچر اور میزائل و ڈرون کے ذخائر کو نشانہ بنایا جائے گا۔

رپورٹ کے مطابق دونوں ممالک کی افواج نے مشترکہ مشقیں تیز کر دی ہیں۔ عراق کے اوپر پروازیں کر کے حملے کی مشقیں کی گئیں۔ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے اس ہفتے دورہ اسرائیل کے دوران وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے ان منصوبوں پر تبادلہ خیال کیا۔ درجنوں اسرائیلی فضائیہ کے جنگی طیارے پیر کے روز ایرانی سرحد تک پرواز کر کے گئے۔

iran strike plans پر ٹرمپ کا مؤقف کیا ہے؟

اہم بات یہ ہے کہ صدر ٹرمپ نے ابھی تک کسی نئی کارروائی کی منظوری نہیں دی۔ وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ مڈ ٹرم انتخابات سے پہلے “کسی بھی وقت ایران پر حملہ نہیں کیا جائے گا”۔ خود ٹرمپ نے 21 اکتوبر کو صحافیوں سے گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ “ایک نہ ایک طرح سے کچھ نہ کچھ جلد ہوگا… زیادہ تر لوگوں کا خیال ہے کہ یہ الیکشن کے بعد ہوگا”۔

دوسری جانب خبر رساں ادارے روئٹرز نے 22 اکتوبر کو رپورٹ کیا۔ ایرانی پاسداران انقلاب کی بحریہ کے مطابق چار بحری جہازوں کو بیک وقت نشانہ بنایا گیا۔ یہ جہاز شمالی خلیج فارس میں غیر قانونی تیل کی منتقلی میں ملوث تھے۔ ان میں آگ لگ گئی۔ آبنائے ہرمز کے مغرب میں مزید تین جہاز بارودی سرنگوں کا نشانہ بنے۔ جی ایس آر آر اے کی تفصیلی رپورٹ میں صورتحال کا مکمل پس منظر دیا گیا ہے۔

تیل کی قیمتوں پر کیا اثر پڑ رہا ہے؟

جنگ کے بڑھتے خدشات کے باعث خام تیل کی قیمت بڑھ رہی ہے۔ یمن کے حوثیوں کے سعودی عرب پر حملوں نے بھی قیمتوں کو ہوا دی۔ برینٹ تقریباً 109 سے 111 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہو رہا ہے۔ خطے کی دفاعی صورتحال پر گزشتہ خبر یہاں پڑھیں۔

واضح رہے کہ iran strike plans ابھی منصوبہ بندی کے مرحلے میں ہیں۔ حتمی فیصلہ امریکی صدر کریں گے۔ مشرق وسطی میں کشیدگی کا ماحول برقرار ہے۔ پاکستان سمیت تیل درآمد کرنے والے ممالک کے لیے توانائی کی قیمتوں میں اضافے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ اس کے اثرات آنے والے ہفتوں میں محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں