اردن کے جنوبی صوبے کرک کے ہامود گاؤں میں جمعے کے روز ایک یونانی آرتھوڈوکس چرچ میں جنازے کے دوران مسلح افراد نے فائرنگ کر دی۔ اس حملے میں 7 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے۔ jordan church attack کے نام سے سامنے آنے والا یہ واقعہ دارالحکومت عمان سے تقریباً 180 کلومیٹر جنوب میں پیش آیا۔
اردن کے حکام کے مطابق ہلاک ہونے والوں کی عمریں 50 سے 70 برس کے درمیان تھیں۔ زخمیوں کی تعداد کے بارے میں اعداد میں فرق ہے۔ اردن کے حکام اور خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق 34 افراد زخمی ہوئے۔ ان میں سے 27 تاحال اسپتال میں ہیں۔ بعض عالمی رپورٹس میں یہ تعداد 40 بتائی گئی ہے۔ پبلک سیکیورٹی ڈائریکٹوریٹ کے سربراہ میجر جنرل عبیداللہ المعیطہ نے پریس کانفرنس میں 7 ہلاکتوں کی تصدیق کی۔
jordan church attack کیسے ہوا؟
سی سی ٹی وی فوٹیج (بی بی سی کی تصدیق شدہ) کے مطابق دو حملہ آور چرچ کے گاڑیوں والے داخلی دروازے سے داخل ہوئے۔ وہ پیچھے ہٹے اور پھر تیسرے مسلح شخص کے ساتھ واپس آئے۔ عینی شاہدین کے مطابق جنازے کا جلوس شروع ہوتے ہی ایک دھماکے کی آواز سنی گئی۔ اس کے بعد نقاب پوش حملہ آوروں نے کئی منٹ تک فائرنگ کی۔ العربیہ کی رپورٹ کے مطابق تینوں حملہ آوروں میں سے ایک کے پاس کلاشنکوف تھی۔ دو کے پاس پستول تھے۔ ٹائمز ناؤ کی تفصیلی رپورٹ میں واقعے کی مکمل تفصیل دی گئی ہے۔ حملے کی ذمہ داری تاحال کسی گروہ نے قبول نہیں کی۔ ملزمان کی تلاش جاری ہے۔
شاہ عبداللہ کا ردعمل اور عالمی مذمت
اردن کے شاہ عبداللہ دوم نے اس حملے کو سخت ترین جوابی کارروائی سے نمٹنے کا عزم ظاہر کیا۔ انہوں نے قومی اتحاد پر زور دیا۔ وزیر داخلہ مازن الفرایہ نے اسے “بے مثال” دہشت گرد کارروائی قرار دیا۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے حملے کی مذمت کی ہے۔ مصر، عراق، لبنان، شام، عمان اور کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے بھی مذمت کی۔ الازہر کے گرینڈ امام احمد الطیب نے بھی اس کی مذمت کی ہے۔ خطے کی صورتحال پر گزشتہ خبر یہاں پڑھیں۔
واضح رہے کہ jordan church attack سے قبل کرک شہر 2016 میں بھی داعش کے ایک حملے کا نشانہ بنا تھا۔ اس میں 14 افراد ہلاک اور 37 زخمی ہوئے تھے۔
مظفرآباد: 17.4°C، صاف | روزنامہ پرل ویو