مری کے پہاڑوں میں گھومتی سڑک — murree muzaffarabad expressway کی 70 کلومیٹر توسیع کا منصوبہ 3

مری–مظفرآباد ایکسپریس وے کا بڑا فیصلہ — 70 کلومیٹر توسیع پی پی پی ماڈل پر بنے گی

وفاقی حکومت نے murree muzaffarabad expressway کی تعمیر کا بڑا فیصلہ کر لیا ہے۔ مری ایکسپریس وے (این-75) کو 70 کلومیٹر بڑھا کر آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد تک پہنچایا جائے گا۔ یہ فیصلہ اسلام آباد میں اعلیٰ سطحی اجلاس میں کیا گیا۔ اجلاس کی مشترکہ صدارت وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان اور وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی نے کی۔

اجلاس میں چار بڑے شاہراہی منصوبوں پر غور ہوا۔ یہ منصوبے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) کے تحت مکمل کیے جائیں گے۔ حکام کو ایک ہفتے میں بزنس پلان تیار کرنے کی ہدایت دی گئی۔ اس کے بعد اگلے مرحلے میں عملی پیش رفت ہوگی۔

murree muzaffarabad expressway سے کیا فائدہ ہوگا؟

مجوزہ توسیع کا مقصد مظفرآباد کو موٹروے نیٹ ورک سے جوڑنا ہے۔ اس سے سفر براہ راست اور تیز رفتار ہوگا۔ مقامی رہائشیوں اور سیاحوں کو نمایاں آسانی ملے گی۔ بیرون ملک مقیم پاکستانی بھی مستفید ہوں گے۔ سیاحت کو بھی فروغ ملے گا۔ کشمیر انگلش کی تفصیلی رپورٹ کے مطابق منصوبہ ابھی منصوبہ بندی کے مرحلے میں ہے۔ ٹھیکہ ابھی نہیں دیا گیا۔

وفاقی وزیر نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کو ہدایت کی۔ اتھارٹی وفاقی ترقیاتی فنڈنگ پر انحصار کم کرے گی۔ اسے خود کفیل ادارہ بنایا جائے گا۔ این ایچ اے کی مالی صلاحیت بڑھانے پر بھی غور ہوا۔ صلاحیت 500 ارب سے ایک کھرب روپے تک بڑھائی جا سکتی ہے۔

دیگر تین بڑے منصوبے کون سے ہیں؟

مری–مظفرآباد توسیع کے علاوہ تین مزید منصوبے زیر غور آئے۔ ان میں ایم-10 موٹر وے کا 169 کلومیٹر طویل حصہ شامل ہے۔ مانسہرہ–ناران–جھل کھنڈ–چلاس موٹر وے بھی شامل ہے۔ اسے چینی سرحد تک بڑھانے کا آپشن زیر غور ہے۔ سکھ مذہبی سیاحت کے لیے گرو نانک ایکسپریس وے بھی منصوبوں میں ہے۔ آزاد کشمیر کی گزشتہ خبر یہاں پڑھیں۔

ماہرین کے مطابق murree muzaffarabad expressway سمیت یہ منصوبے پی پی پی ماڈل پر بنیں گے۔ اس سے سرکاری خزانے پر بوجھ کم ہوگا۔ نجی سرمایہ کاری سے معیاری انفراسٹرکچر تیار ہوگا۔ اصل امتحان بزنس پلان کی عملی شکل کا ہوگا۔ ٹول ٹیکس کے تعین پر عوامی ردعمل بھی اہم ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں