خیبر درہ کی پہاڑی سڑک — pakistan afghanistan سرحدی سلامتی کے تناظر میں افغانستان سے ملحقہ علاقہ 4

پاکستان کا کابل سے پھر دوٹوک مطالبہ، طالبان کے الزامات ‘گمراہ کن’ قرار

پاکستان نے افغانستان کی طالبان حکومت کے تازہ دعووں کو مسترد کر دیا ہے۔ pakistan afghanistan معاملے پر وزارت اطلاعات و نشریات نے 25 اکتوبر کو ایک بیان جاری کیا تھا۔ اس بیان میں کابل کے دعوے کو ‘گمراہ کن’ قرار دیا گیا ہے۔ کابل کا دعویٰ تھا کہ افغانستان کے پاس پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی نہ صلاحیت ہے اور نہ ارادہ ہے۔ اسلام آباد نے کہا ہے کہ یہ دعویٰ اصل مسئلے سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔

پاکستان نے اپنا مطالبہ پھر دہرایا ہے۔ کابل کو اپنی سرزمین سے دہشت گرد گروہوں کے خلاف قابل تصدیق کارروائی کرنی چاہیے۔ محض بیانات کافی نہیں ہیں۔ ٹھوس اقدامات درکار ہیں۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے۔

pakistan afghanistan: پاکستان نے کن رپورٹوں کا حوالہ دیا؟

وزارت اطلاعات نے دو رپورٹوں کا حوالہ دیا ہے۔ پہلی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی مانیٹرنگ ٹیم کی 16 ویں رپورٹ ہے۔ اس کا حوالہ ایس/2025/796 ہے۔ دوسری امریکی لیڈ انسپکٹر جنرل کی ‘آپریشن اینڈیورنگ سینٹینل’ رپورٹ ہے۔ یہ رپورٹ جنوری سے مارچ 2026 کی مدت کی ہے۔ وزارت کے مطابق اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان کالعدم تحریک طالبان پاکستان کو افغان سرزمین سے کام کرنے دے رہے ہیں۔ رپورٹ میں ٹی ٹی پی کی تعداد 4 ہزار سے 6 ہزار جنگجو بتائی گئی ہے۔ دی نیوز کی تفصیلی رپورٹ میں یہ حوالے درج ہیں۔

دوسری جانب طالبان کے ترجمان عبدالقہار بلخی نے بھی اپنا موقف دیا ہے۔ انہوں نے ایک انٹرویو میں دعویٰ کیا ہے کہ 2022 کے آغاز سے اب تک پاکستانی حملوں میں 1 ہزار 119 افغان شہری ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں۔ ان میں زیادہ تر خواتین اور بچے بتائے گئے ہیں۔ یہ طالبان کا دعویٰ ہے۔ آزادانہ ذرائع نے اس تعداد کی تصدیق نہیں کی ہے۔ یہ تعداد ہلاک اور زخمی دونوں کو ملا کر بتائی گئی ہے۔ اسے الگ الگ ہلاکتوں کی تعداد نہ سمجھا جائے۔

آگے کیا ہوگا؟

دونوں جانب سے بیانات کا سلسلہ جاری ہے۔ پاکستان قابل تصدیق کارروائی کا مطالبہ کر رہا ہے۔ کابل الزامات کو مسترد کر رہا ہے۔ گزشتہ روز کے مطالبے کی تفصیل یہاں پڑھیں۔ اس معاملے کا حل صرف ٹھوس اقدامات سے ہی ممکن ہے۔ بیانات سے سرحدی کشیدگی کم نہیں ہوگی۔ pakistan afghanistan معاملے میں امن کے لیے افغان سرزمین کا دہشت گردی کے لیے استعمال روکنا ضروری ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں